MOJ E SUKHAN

رخسانہ نور

سنا ہے پیار کا دکھ جان لے کے ٹلتا ہے
سنا ہے درد کا طوفاں اجاڑ دیتا ہے
وہ بستیاں جو محبت کے دیوتاوں نے
دلوں میں اپنے کرم سے بسائی ہوتی ہیں
جفا گروں کو بھلا کیا خبر کے دکھ کیا ہے
جو عشق کرتے ہیں وہ جاں پہ کھیل جاتے ہیں
وہ درد پیار کا تحفہ سمجھ کے لیتے ہیں
دئیے ہواوں کی زد پر جلانے والے لوگ
دئیوں کے بجھنے پہ خود کو جلانے لگتے ہیں
سنا ہے پیار سمندر میں ڈوبنے والے
کنارے لگنے کی خواہش کیا نہیں کرتے
سراپا پیار نہ ہوتی تو جی رہی ہوتی
وہ بے قرار نہ ہوتی تو جی رہی ہوتی
جفائیں سہنے کی عادت میں مبتلا عورت
وفا شعار نہ ہوتی تو جی رہی ہوتی
خدا نصیب کرے اس کو دائمی راحت
خدا کے پیاروں میں اس کا بھی نام شامل ہو
تمام حوریں بھی جنت کی اس پہ رشک کریں
خدا کے گھر میں اسے وہ مقام حاصل ہو

ہالہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم