MOJ E SUKHAN

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

رخصت رقص بھی ہے پاؤں میں زنجیر بھی ہے
سر منظر مگر اک بولتی تصویر بھی ہے

میرے شانوں پہ فرشتوں کا بھی ہے بار گراں
اور مرے سامنے اک ملبے کی تعمیر بھی ہے

زائچہ اپنا جو دیکھا ہے تو سر یاد آیا
جیسے ان ہاتھوں پہ کندہ کوئی تقدیر بھی ہے

خواہشیں خون میں اتری ہیں صحیفوں کی طرح
ان کتابوں میں ترے ہاتھ کی تحریر بھی ہے

جس سے ملنا تھا مقدر وہ دوبارہ نہ ملا
اور امکاں نہ تھا جس کا وہ عناں گیر بھی ہے

سر دیوار نوشتے بھی کئی دیکھتا ہوں
پس دیوار مگر حسرت تعمیر بھی ہے

میں یہ سمجھا تھا سلگتا ہوں فقط میں ہی یہاں
اب جو دیکھا تو یہ احساس ہمہ گیر بھی ہے

یوں نہ دیکھو کہ زمانہ متوجہ ہو جائے
کہ اس انداز نظر میں مری تشہیر بھی ہے

میں نے جو خواب ابھی دیکھا نہیں ہے اخترؔ
میرا ہر خواب اسی خواب کی تعبیر بھی ہے

اختر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم