MOJ E SUKHAN

رخ ہوا کا یہ کہ جیسے اس کو آسانی پڑے

رخ ہوا کا یہ کہ جیسے اس کو آسانی پڑے
دل کی آگ ایسی کہ ہم کو روز سلگانی پڑے

نور ہو اندر تو باہر مات کیوں کھانی پڑے
وہ تجلی کیا میاں جو طور سے لانی پڑے

زندگی کی قدر تب تم پر کھلے گی دوستو
اس کے کوچے سے جب ایک اک سانس منگوانی پڑے

ایک تو مشکل کو جھیلوں اور اوپر سے یہ ہے
اپنی مشکل روز اس کو جا کے سمجھانی پڑے

خود وہ ملنے آئے تو حائل رہے یہ بے خودی
میں جو ملنے جاؤں تو رستے میں حیرانی پڑے

پڑ گیا جب تو ہی این و آں کی الجھن میں شجاعؔ
لاکھ پھر سجدے میں شب بھر تیری پیشانی پڑے

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم