رخ ہوا کا یہ کہ جیسے اس کو آسانی پڑے
دل کی آگ ایسی کہ ہم کو روز سلگانی پڑے
نور ہو اندر تو باہر مات کیوں کھانی پڑے
وہ تجلی کیا میاں جو طور سے لانی پڑے
زندگی کی قدر تب تم پر کھلے گی دوستو
اس کے کوچے سے جب ایک اک سانس منگوانی پڑے
ایک تو مشکل کو جھیلوں اور اوپر سے یہ ہے
اپنی مشکل روز اس کو جا کے سمجھانی پڑے
خود وہ ملنے آئے تو حائل رہے یہ بے خودی
میں جو ملنے جاؤں تو رستے میں حیرانی پڑے
پڑ گیا جب تو ہی این و آں کی الجھن میں شجاعؔ
لاکھ پھر سجدے میں شب بھر تیری پیشانی پڑے
شجاع خاور