MOJ E SUKHAN

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروں

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروں
اک قرض ہے سفر میں یہ بھر جاؤں کیا کروں

کچا مرا مکان تھا بارش میں بہہ گیا
سیل رواں میں خود بھی اتر جاؤں کیا کروں

واپس وہیں پہ رستہ مجھے لے کے آ گیا
میں آگے چل پڑوں کہ ٹھہر جاؤں کیا کروں

در تو کھلے ہوئے ہیں نہ مہماں نہ میزباں
گھبرا کے سوچتی ہوں کدھر جاؤں کیا کروں

قاتل تجھے بچا گیا منصف کا فیصلہ
فریاد کس سے ہو میں کدھر جاؤں کیا کروں

تسکین اس کی جاں کو ملے گی اسی طرح
رستے پہ خاک بن کے بکھر جاؤں کیا کروں

دنیا بلا رہی ہے مجھے دیں ہے اک طرف
جاؤں میں اس طرف کہ ادھر جاؤں کیا کروں

اس کی رضا پہ خوش ہوں رکھے جس بھی حال میں
اس کی رضا پہ کچھ بھی میں کر جاؤں کیا کروں

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم