MOJ E SUKHAN

رسم احساس ہی دنیا سے مٹا دی جائے

رسم احساس ہی دنیا سے مٹا دی جائے
اب نہ پھولوں کو مہکنے کی ادا دی جائے

اب نہ آنگن میں کسی پیڑ کو رکھا جائے
چھاؤں دینے کی انہیں بھی تو سزا دی جائے

اب یہ زنجیر مجھے روک نہیں پائے گی
اب مرے پاؤں پہ زنجیر بنا دی جائے

اب یہ شعلے بھی ہواؤں کو بہت پیارے ہیں
اب زرا سوچ کے ان کو بھی ہوا دی جائے

میری آنکھیں جو نکالو تو جلا دینا انہیی
راکھ پھر کوچہ ٗ جاناں میں اڑا دی جائے

ہوش میں آنا مرا کوئی کہاں مشکل ہے
بس کہ آواز تری مجھ کو سنا دی جائے

ہو کوئی ایسا مرے دکھ کو جو سن کر روئے
میری دیوار پہ اک آنکھ بنا دی جائے

مجھ کو جینے کی دعا دینے سے پہلے انصر
میرے دشمن کو بھی جینے کی دعا دی جائے

انصر رشید انصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم