MOJ E SUKHAN

رقص بسمل کی مرے دل کو ادا بھی آئے

رقص بسمل کی مرے دل کو ادا بھی آئے
مجھ سے بچھڑو تو تڑپنے کا مزا بھی آئے

عالم حبس ہے کچھ ٹھنڈی ہوا بھی آئے
یاد ایسے میں تری کوئی وفا بھی آئے

چند لمحوں کو ہٹا اپنی انا کے پردے
کھڑکیاں کھول تو کچھ تازہ ہوا بھی آئے

اب کہاں سے تمہیں لوٹائیں تمہارے وہ خطوط
ہم تو کب کا انہیں دریا میں بہا بھی آئے

جاوید نسیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم