MOJ E SUKHAN

رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی

غزل

رقص کرتے ہوئے میں تجھ کو منایا کرتی
دھول ہوتی تو کبھی دھول اڑایا کرتی

کسی دھاگے سے بندھا آتا اگر تو مرے پاس
منتوں والے دیے روز جلایا کرتی

میں شجرکاری کے موسم میں اگاتی کوئی پیڑ
اور محبت سے پرندوں کو بلایا کرتی

پوچھتا مجھ سے اگر کوئی مرادیں ساری
میں ترا چہرہ ترا نام بتایا کرتی

جھیل کے سوکھتے پانی کو دلاسے دیتی
اور بارش کے لئے اشک بہایا کرتی

کنول ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم