MOJ E SUKHAN

رنگ اس کا نیا نظر آیا

غزل

رنگ اس کا نیا نظر آیا
شام تھا دھوپ سا نظر آیا

وہی کمرہ وہی تھا سب سامان
وہ مگر دوسرا نظر آیا

راستے میں وہ آ گیا تھا نظر
پھر کہاں راستہ نظر آیا

وہ گلی دوسری نظر آئی
در و دیوار سا نظر آیا

وہ جو تعبیر تھا مجھے اک دن
خواب ہوتا ہوا نظر آیا

جو میسر ہے اس میں بس خاورؔ
دل ہی کچھ کام کا نظر آیا

اقبال خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم