MOJ E SUKHAN

رنگ جو بےمثال رکھے ہیں

غزل

رنگ جو بےمثال رکھے ہیں
اپنی غزلوں میں ڈھال رکھے ہیں

آپ کی قسمیں آپ کے وعدے
میں نے بےحد سنبھال رکھے ہیں

عشق راس آ بھی جاتا ہوگا مگر
دل نے اندیشے پال رکھے ہیں

میری آنکھوں کے بند کمرے میں
خواب کچھ بےمثال رکھے ہیں

خوف اس کو ہے میری آنکھوں میں
اس کی خاطر سوال رکھے ہیں

ساری دنیا جنہیں گراتی ہے
میرے رب نے سنبھال رکھے ہیں

میرے حصے کے سارے رنج و الم
میرے آقاؐ نے ٹال رکھے ہیں

انؐ سے نسبت کا ہے کرم عنبر
جو بھی مجھ میں کمال رکھے ہیں

عنبرین_خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم