MOJ E SUKHAN
No Record Found
رنگ خوشبو گلاب دے مجھ کواس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھیآنکھ میں موتیا اتر آیا!!
اطہر شاہ خان جیدی
ناپید جب یہ سِلسِلۂ ہست و بُود تھا
گر ذرے کو کوئی ثبات نہ ہو
منصورؔ کے مرید ہیں سرمدؔ کے یار ہیں
سوال شام پہ آیا جواب شب آخر
رونق ارض و سما ہے مجھ میں
لباس تن پہ سلامت ہیں ہاتھ خالی ہیں
ایسا نہیں کہ ایک مرا گھر اداس ہے
الفاظ محترم ہیں کہ نعتِ نبیؐ کے ہیں
ہوا ،چراغ ،اندھیرا، چرا کے لے آیا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے