MOJ E SUKHAN

رنگ کہاں ہے سایا سا ہے

رنگ کہاں ہے سایا سا ہے
نقش کہاں ہے دھوکا سا ہے

صبح کی رنگت زردی مائل
شام نہیں ہے دھڑکا سا ہے

دل کا خون ہوا ہو شاید
دور پرے جو کہرا سا ہے

سیل عشق تھما کب ہوگا
دریا ہے اور چڑھتا سا ہے

لب اس کے جو کھلتے دیکھے
ایک جہاں کچھ ہنستا سا ہے

اصل میں نقش کیف ہستی
فانی سا ہے مٹتا سا ہے

حسن اور عشق ہیں دونوں کافر
دونوں میں اک جھگڑا سا ہے

آؤ پیار سے دھو لیں اس کو
نقش جہاں کچھ میلا سا ہے

عظیم قریشی

Azeem Qureshi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم