MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

روزنِ تقدیر قسط نمبر 16

#قسط_نمبر_16

#از_قلم_شیخزادی

#روزن_تقدیر

#episode_16

#rozan_e_taqdeer

کینیڈا کے اک گودام میں بڑا سا کنٹینر آیا اب لوگ جلدی جلدی بھاگ بھاگ کر کام کر رہے تھے ۔۔۔
اک آدمی سوٹ پہنے سب کو آرڈر دے رہا تھا
اک دم گودام کے باہر بھگدڑ مچ گئی اور بہت سی پولیس کی گاڑیوں نے ان سب کو گھیر لیا۔۔۔
سب ورکرز اک دوسرے کی شکل دیکھنے لگ گۓ عجیب سی دہشت تھی تھی سب کے چہروں پر
اب کچھ پولیس والے سب ورکرز کو سائڈ پر کر رہے تھے
اور کچھ جگہ کی تلاشی لے رہے تھے
آفیسر کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔جیسے آج اسنے اپنی زندگی کا سب سےبڑا کیس جیت لیا ہو
اک دم زناٹے سے اک شاندار کار گودام کے دروازے پر آکر رکی۔۔۔
گاڑی کے آتے ہی سارے ورکرز کچھ ریلیکس ہوۓ۔۔۔
اک گارڑ نے بھاگ کر گاڑی کا دروازہ کھولا
بلیک تھری پیس اک ہاتھ میں بریف کیس اور دوسرے ہاتھ میں گھڑی دیکھتے ہوۓ وہ مکمل پولیس کو نظر انداز کرتا اندر آکر کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔
سب ورکرز اور پولیس سے اسے حیرت سے دیکھنے لگے
مسٹر جان ۔۔۔ اسنے سپروائز کو بلایا
کام کیوں روکا ہوا ہے اس لۓ لیتے ہو تم سب سیلری۔۔۔
پتا بھی ہے وقت کی قیمت تم لوگوں کی کام چوری مجھے کروڑوں کا نقصان کرواۓ گی
کام پر لگو سب وہ دھاڑا ۔۔
سر وہ پولیس
کیا پولیس کیا پولیس ہاں۔۔
نوکری تم میری کرتے ہو یا پولیس کی
اتنے میں آفیسر جیک اس کے پاس آیا اور کہنے لگا مسٹر عباد آپ کے گودام کی تلاشی کا سرچ وارنٹ ہے میرے پاس لہزا پولیس کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالیں آپ۔۔۔۔
یہاں کام کرنے کا ورک پرمٹ ہے میرے پاس ۔۔ لہذا آپ بھی میرے کام میں رکاوٹ نہ ڈالیں عباد آبرو اچکا کر بولا
آپ کو جو کرنا ہے کریں کوئ آپکو نہیں روک رہا لیکن
میرے ورکرز کو بھی کام کرنے دیں ورنہ میرا جو نقصان ہوگا وہ آپ کیسے چکائیں گے۔۔۔
عباد پولیس آفیسر کی وردی ٹھیک کرتے ہوۓ بولا
دھمکا رہے ہو مجھے آفیسر نے تیش میں آکر بولا
نہ نہ میں کہاں ۔۔۔۔عباد مسکراتے ہوۓ واپس کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اتنے میں اک اور بڑی پولیس کی گاڑی دروازے پر رکی ۔۔۔۔
جیک نے عباد کو گھورا وہ سمجھ گیا تھا اب وہ یہاں کچھ نہیں کر پاۓ گا
آفیسر جیک یہاں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ جوناتھن جو ان کا ہیڈ تھا غصے سے بولا
سر ہمارے پاس سرچ وارنٹ ہے ہم یہاں تلاشی لے رہے ہیں ہمیں پکی خبر ملی ہے کہ آج یہاں غیر قانونی امپورٹ ہوئ ہے ۔۔۔
کچھ ملا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نہیں سر ابھی تک تو کچھ نہیں ملا لیکن ہم ڈھونڈ رہے ہیں
دیکھو تم کسی انسان کو ایسے بہت دیر پریشان نہیں کرسکتے جلدی کرو اور نکلو یہاں سےاور عباد صاحب تکلیف کے لۓ معافی بس یہ آجکل کے افسر بھی نہ بنا کچھ سوچے سمجھے کسی کو بھی تنگ کر دیتے ہیں
جو بھی ہے زرا جلدی کروائیں یہاں کام رکا ہوا ہے ۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد جب پولیس کو کچھ نہ ملا تو وہ جانے لگے۔۔۔
اتنے میں آفیسر جیک کی نگاہ کنٹینر پر پڑی
اسے کسی نے چیک کیا ۔۔وہ پر امید ہوکر بولا
یس سر یہ خالی ہے ان ہی میں سے اک پولیس والے نے جواب دیا
اچھا۔۔۔وہ واپس جانے کے لۓ مڑ گیا اتنے میں کسی خیال کے تحت وہ مڑا اور دوبارہ کنٹینر کھولنے کو کہا۔
جس پولیس والے نے کہا تھا کہ کنٹینر خالی ہے اس کی تو ہوائیاں اڑ گئیں ۔۔۔
لیکن کیوں سر میں نے خود چیک کیا ہے یہ خالی ہے ۔۔۔
سنا نہیں تم نے کھولو اسے عباد کی طرف دیکھتے اس نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا ۔۔۔
اندر کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھوں میں چمک آگئ اندر لڑکیاں ہی لڑکیاں بھری ہوئیں تھیں ۔۔۔تقریبا سب ایشیائی لڑکیاں چھوٹی بڑی اور کچھ تو بچیاں بھی تھیں۔۔۔۔۔۔
مطلب مجھے صحیح رپورٹ مل۔۔۔۔۔
ابھی وہ یہی کہ رہا تھا اک گولی آئ اور سیدھی اس کے سر میں گھس گئ۔۔۔۔
اور وہ افسر نیچے گر گیا لڑکیوں نے زور دار چیخ ماری۔۔۔
ششششششششش عباد نے منہ پر گن رکھ کر سب کو چپ کرایا
چچ چچ چچ چچ
عباد آنکھوں میں حیوانیت لے کر اس کے پاس بیٹھ گیا
لو کروادیا نہ مجھ سے ایک اور جرم ۔۔۔
تم لوگ تو مجھے سکون سے جینے نہیں دوگے ۔۔۔۔
لڑکیاں تو بچاری سہم ہی گئیں تھی اور باقی سارے پولیس والے ایسے گاڑی میں بیٹھ گۓ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔
یار عباد سنبھال لیتا میں اسے ۔۔۔آفیسر جوناتھن نے اپنا
ماتھا کھجاتے بولا۔۔۔
یہ اس کی سزا ہے میرا وقت ضائع کرنے کی ۔۔۔
اب سنبھالو اس کو بڑا شوق تھا نہ ۔۔۔۔عباد کہتا ہوا گاڑی کی طرف جانے لگا
اک دم مڑا اور گرج دار آواز میں چلایا اور بھی کسی کو وقت ضائع کرنا ہے۔۔۔۔۔
سب اک دم کام میں لگ گۓ ۔۔۔ عباد چلا گیا اور وہ افسر خون میں لت پت وہیں پڑا رہ گیا۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر اس نے فون کان سے لگایا
مال ڈلیور ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔
اس کی فکر نہ کرو وہ کل روانہ ہوجائیگا ۔۔۔کہ کر اسنے فون بند کردیا ۔۔۔۔۔
اک دم اسکا فون بجا ۔۔۔۔۔ہاں بولو۔۔۔۔
سر مس سنبل کو ائرپورٹ پر دیکھا گیا ہے۔۔۔
یہ خبر سن کر اسکی پیشانی پر بل آگۓ ۔۔۔۔
پتا کرو وہ کہاں گئ ہے ۔۔۔۔
میری قید سے آزادی ممکن نہیں سنبل بی بی ۔۔۔۔کتنے دن رہوگی آزاد
وہ تنظیہ مسکرایا

بیٹا کیا سوچ رہے ہو فاطمہ بیگم کی آواز سے اس کی سوچ کا تسلسل ٹوٹا
امی وقت کے چکر کو سوچ رہا ہوں اب جا کر میں نے گزرے وقت کو بھولنا چاہا تھا لیکن وقت کو یہ نا منظور ہو گیا اس نے ایسا کیا کہ اک لمحے میں سب درد تازہ کردیۓ۔
کیا ہوگیا بیٹا ایسا کیوں کہ رہے ہو ۔۔۔
امی سنبل کل یہاں آرہی ہے ۔۔۔اس نے سر انکی گود میں رکھے رکھے کہا۔۔۔۔
لیکن کیوں بیٹا فاطمہ بیگم کو حیرانی ہوئی
امی وہ پریشان ہے اس کے شوہر نے اسے قید کیا ہوا تھا میں نے اسے یہاں بلوالیا۔۔۔۔
بیٹا یہ آپ نے اچھا کیا اب پریشان نہ ہوں
کیسے نہ ہوں مجھے اس عورت سے نفرت ہے اس کی وجہ سے میں نے اپنے رب کو ناراض کیا اسی کی وجہ سے مجھے عورت زات سے نفرت ہوگئ میں عورتوں کو حقارت سے دیکھنے لگا۔۔۔۔
اگر مجھے ماہشان نہ ملتیں تو مجھے یہی لگتا کہ ہر عورت مطلب پرست ہے ۔۔۔۔
ماہشان جو اس سے اس کی خیریت لینے اور اپنا جواب دینے آرہی تھی وہیں دروازے پر آکر رک گئ اس کے ہاتھ اک دم تھم گۓ
امی وہ لڑکی اگر مجھے نہ ملتی تو شاید میں کبھی کسی لڑکی کی دوبارہ عزت نہ کرپاتا ۔۔۔۔
انہوں نے مجھے سکھایا کہ عورت بھی اک انسان ہے اگر کوئ اک غلط ہو تو ساری انسانیت غلط نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔
مجھے ان کی باتوں سے احساس ہوا کہ میں کتنا غلط تھا ۔۔۔۔
لیکن امی سنبل نے مجھے عورت کا روپ دکھایا ہی ایسا تھا میں کیا کرتا میں ٹوٹ گیا تھا امی۔
لیکن غلطی میری ہے مجھے پتا ہونا چاہیے تھا
نہیں میرا بچہ غلطیاں انسان ہی کرتا ہے غلطی سنبل سے بھی ہوئ غلطی آپ سے بھی ہوئ ۔۔۔
اپنی غلطی آپ سدھار لیجۓ اور سنبل کی غلطی درگزر کردیجۓ۔۔
یہی بہترین نجات ہے بیٹا
فاطمہ بیگم بڑے پیار سے اسے سمجھانے لگیں۔۔۔۔
اور رہی بات ماہشان کی تو اللہ نے چاہا تو اس کے دل میں آپ کے لۓ ہاں اللہ ڈال دے گا
لیکن آپ تو ماہشان کو بھی نہیں جانتے نہ ایسا نہ ہو آپ کو انکے بارے میں کچھ ایسا بعد میں پتا چلے جو آپ سے برداشت نہ ہو ۔۔۔
میں نے اپنے بیٹے کو بہت سالوں بعد واپس پایا ہے میں دوبارہ اسے نہیں کھووں گی
وہ ممتا میں تھوڑی خودغرض ہوگئیں تھیں
تم اس کے بارے میں جانچ کروالو پہلے فاطمہ بیگم فکرمندی سے بولیں۔۔۔۔
ماہشان کا تو سانس ہی اٹک گیا۔۔۔۔
نہیں امی اس کی ضرورت نہیں ہے ہاں ہو سکتا ہے ماضی نے انہیں بھی زخمی کیا ہو پر اب ۔۔۔ اب وہ اک باکردار با حیا اور پاک لڑکی ہیں ۔۔۔مجھے ان کے ماضی سے انہیں نہیں پہچاننا
انکے ہال سے پہچاننا ہے تاکہ میرا آنے والا کل روشن ہو ۔۔۔
اور اک بات تو میں جان چکا ہوں آنے والے کل کو روشن کرنے کے لۓ ماضی کے اندھیروں سے ہال میں پیچھا چھڑانا بہت ضروری ہے
ماہشان حیرت میں تھی کہ یہ کیسا آدمی ہے وہ اسے جانتا ہی کتنا ہے۔۔۔۔جو اس کے کردار کی گواہی دے رہا ہے ۔۔۔۔
ماضی ۔ہال ۔مستقبل ماہشان نے آنکھوں سے آنسوں پونچھتے ہوۓ کہا
ماضی۔حال۔مستقبل عیان نے سرد آہ بھرتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔۔
پھر بھی بیٹا
نہیں امی میرے دل میں ان کے لۓ بہت عزت ہے اور یہ عزت انہوں نے خود کمائ ہے
ماہشان نے اک دم آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا ۔۔۔نہیں مجھے یوں چھپ کر انکی باتیں نہیں سننی چاہیے ابھی وہ پلٹ ہی رہی تھی کہ اس کے کانوں نے جو سنا وہ وہیں جم گئ مانو کسی نے اس پر برف کی سِل رکھ دی ہو ۔۔۔
اور جہاں تک آپکی فکر کی بات ہے تو انکی چھان بین میں بہت پہلے کرا چکا ہوں۔۔۔۔
کیا مطلب بیٹا فاطمہ بیگم حیران سی ہوئیں ۔۔۔۔
جی وہ بہت اچھی لڑکی ہیں کچھ نہ کچھ تو ہر کوئ ہی غلط کر ہی دیتا ہے لیکن فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ آگے وہ شخص کیا کرنا چاہتا ہے اور وہ اللہ کی ہوکر رہنا چاہتیں ہیں اور جو اللہ کا ہو وہ کیسے برا ہوسکتا ہے امی۔۔۔۔
اک آنسو ماہشان کی آنکھوں سے نکلا اور وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی
چلو بیٹا اللہ اس کے دل میں ڈال دے بولو تو میں بات کروں نہیں امی ان کو خود فیصلہ کرنے دیں میں ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے بیٹا اب سوجاؤ۔۔۔فاطمہ بیگم عیان کے ماتھے پر بوسہ دیکر جانے لگیں ۔۔۔
رکیں امی میں چھوڑ کر آتا ہوں آپکو عیان فکر مندی سے انکا ہاتھ پکڑ کر انہیں سیڑھیاں اتارنے لگا۔۔۔۔
انکو اپنے کمرے میں چھوڑ کر اب وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف آیا
اک نظر اسنے ماہشان کے کمرے کی طرف ڈالی اور سیدھا اپنے کمرے میں جاکر سوگیا ۔۔۔۔۔
ادھر ماہشان کی تو آنکھوں سے نیند ہی اڑ گئ تھی ۔۔۔۔
وہ اک باکردار با حیا اور پاک لڑکی ہے اس کے کانوں میں عیان کی آواز گونجی ۔۔۔
بے حیا ۔۔۔۔۔ بد کردار اس کے بھائ کے کہے گۓ الفاظ بھی ساتھ ہی کان میں گونجے ماہشان نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔
یہ کیسا شخص ہے وہ خد سے سوال کرنے لگ گئ ۔۔۔۔

کیوں میرے اللّٰہ جب میں نے محبت جیسی چیز کو اپنے دل سے کھینچ نکالا جب میں نے محبت کی چاہت ختم کردی جب مجھے اس لفظ محبت سے بھی کوئ امید نہ رہی جب میں نے اپنے دل کے ہر دروازے کو بند کردیا تو کیوں تو نے مجھے ایسے ہی نہ رہنے دیا
مجھے اب یہ سب بہت مشکل لگتا ہے میرے رب
میں نے محبت کی چاہت میں خود کو بہت بے مول کیا ہے تو تو سب جانتا ہے ہر بات سے واقف ہے تو ہی تو ہر اس درد کا گواہ ہے جو میں نے محبت کی راہ میں اٹھاۓ ہیں میرے رب مجھے تو نہیں پتا میں کیسے محبت کی راہ پر چلوں گی مجھے نہیں پتا میں یہ سب کر بھی سکوں گی کہ نہیں
میری مدد کریں مجھے راستہ دکھائیں دعا کرتے کرتے وہ سوگئ۔۔۔
آج پھر اسنے وہی خواب دیکھا وہ اندھیری سیڑھیاں چڑھتی اوپر جا رہی ہے اوپر پہنچی تو وہاں روشنی ہی روشنی تھی لیکن اس بار وہ مدینہ منورہ میں تھی اور سبز گنبد اس کے سامنے تھا دعا کے لۓ جیسے ہی اس نے ہاتھ اٹھاۓ تو اس کے ہاتھوں میں مہندی لگی تھی وہ حیرت سے اپنی مہندی کو دیکھنے لگی اور اس کی جھٹکے سے آنکھ کھل گئی
جاگنے کے بعد بھی وہ بہت دیر تک اپنے ہاتھ دیکھتی رہی
فجر کی آزان ہو رہی تھی وہ وضو کر کے نماز پڑھنے لگی۔۔۔
نماز پڑھ کر اس نے قرآن پاک کی تلاوت کی اس کے دل میں آہستہ آہستہ سکون اترنے لگا ۔۔۔۔

جاری ہے

شیخ زادی

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین