MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

روزنِ تقدیر قسط نمبر 21

#قسط_نمبر_21

#از_قلم_شیخزادی

#روزن_تقدیر

#episode_21

#rozan_e_taqdeer

عیان بیٹا آج آپ بہت خوش ہیں فاطمہ بیگم عیان کا چہرے دیکھتے بولیں جی امی یوں سمجھ لیں جس چیز کا بڑے دنوں سے انتظار تھا آج وہ ہوگیا وہ بھی خود ہی ۔۔۔۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے اللّٰہ میرے بیٹے کے لۓ آگے بھی ایسے ہی آسانیاں کرے فاطمہ بیگم دعا دینے لگیں
آمین امی آمین بس آپ کی دعائیں ایسے ہی ملتی رہیں تو اللّٰہ کے حکم سے اس بار یہ کام ختم کر کے ہی سکون کا سانس لوں گا
اسلام وعلیکم ماہشان کی آواز آنے پر ان دونوں نے مڑ کر دیکھا
عیان اک دم اٹھ کر جانے لگا پہلے تو ماہشان نے اسے روکنے کے لۓ ہاتھ اٹھانا چاہا لیکن کچھ سوچ کر رک گئی
امی میں چلتا ہوں کہ کر عیان کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا آؤ فاطمہ بیگم نے بڑی شفقت سے اسے اپنے پاس بلایا
آنٹی وہ میں یہ کہ رہی تھی کہ ماہشان شدید گھبراتے ہوۓ کہنے لگی
کیا ہوگیا بیٹا اتنا پریشان کیوں ہو فاطمہ بیگم اسے اس طرح دیکھ کر اک دم سنجیدہ ہوئیں آنٹی وہ میں کہنا چاہ رہی تھی کہ آنٹی سمجھ نہیں آرہا کیسے کہوں
ارے ایسا بھی کیا ہے جو اتنا چہرہ لال ہو رہا ہے خیریت تو ہے طبیعت ٹھیک ہے فاطمہ بیگم فکرمند سی ہونے لگیں
آنٹی نہیں ایسی کوئ بات نہیں بس میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں شادی کے لۓ تیار ہوں اس نے اک سانس میں بول دیا
اور اک دم انگلیاں مڑوڑنے لگی
ارے واہ ماشااللہ ماشااللہ میری پیاری بیٹی تم نے تو آج مجھے وہ خوشی دے دی ہے کہ کیا کہوں شکریہ بیٹا تمھارا بہت بہت شکریہ فاطمہ بیگم ماہشان کو گلے لگا کر بولیں
ابھی عیان کو بتاتی ہوں وہ بھی بہت خوش ہوگا
کل ہی اپنے امی ابو سے میری بات کرانا ہم انہیں یہیں بلالیں گےیا پھر پاکستان چلیں گے۔ ۔۔۔میں بہت خوش ہوں بچا امی ابو ماہشان زیرلب دھرائئ
کیا ہوا بیٹا ماہشان کے چہرے پر اداسی دیکھ کر فاطمہ بیگم اک دم بولیں
ارے بیٹا ایسے نہیں کرو رشتے ٹوٹتے نہیں ہیں ہاں دوریاں آجاتی ہیں اللّٰہ نے چاہا تو اک دن تمھیں تمھارے سارے رشتے پورے مان کے ساتھ واپس مل جائیں گے فاطمہ بیگم ماہشان کے سر پر ہاتھ پھیرتے بولیں
کچھ نہیں آنٹی میرا کوئ نہیں ہے میں اکیلی ہوں میں پاکستان سے تو ہوں لیکن میرا وہاں کوئ نہیں ماہشان اداسی سے بولی کہنے کو تو بابا اور اک بھائ ہیں لیکن ان دونوں نے کب کا مجھ سے اپنا ہر رشتہ توڑ دیا ہے یہ کہ کر وہ اپنا چہرہ ہاتھوں سے چھپا کر رونے لگ گئی
تم رکو یہیں میں عیان کو بتا کر آتی ہوں فاطمہ بیگم خوشی خوشی اپنے کمرے سے نکل گئیں
ادھر عباد سیدھا اپنے گودام آیا اور ماہشان سے مطعلق پوچھ گچھ کرنے لگا ۔۔
اسے شدید غصہ تھا کہ ہاتھ آئ بازی ہاتھ سے آخر نکل کیسے گئ
کیا مطلب غائب ہوگئی تم لوگوں سے اک کام نہیں ہوتا ڈھنگ سے۔۔۔۔ بھوت تھی کیا جو غائب ہوگئی عباد چلاتے ہوئے بولا
باہر کا موسم بھی اس کے مزاج کی طرح طوفانی ہورہا تھا اک طوفان اس نے گودام میں چھیڑا ہوا تھا اک طوفان باہر آیا ہوا تھا بار بار بادل کے گرجنے کی آواز اور ساتھ میں تیز بارش اک عجیب سا ماحول تھا سب ورکرز پر خوف طاری تھا عباد کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کیا کر جاۓ پہلے ہی اسے اپنے امریکہ کے اسٹاف پر غصہ تھا اوپر سے آج ماہشان کی خبر ملی تو اس کے لوگ ماہشان کو پکڑ بھی نہ سکے
تم سب کے سب ناکارہ ہو ٹوٹل یوسلیس
سر کس طرح وہ اک دم غائب ہوئیں ایسا لگتا تھا جیسے کوئ جانتا ہو کہ ہم حملہ کرنے والے ہیں ہم نے پیچھا کیا لیکن اس طرح کسی عام آدمی کاایک دم نظر سے اوجھل ہونا تشویش کی بات ہے
کیا مطلب ہے تمھارا نا ممکن ہے یہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے بہانے ہیں یہ سب اور کچھ نہیں پتا کرو وہ کس کے ساتھ گئ تھی پولیس اسٹیشن مجھے اس آدمی کی پوری خبر چاہیے کل صبح تک سن لو۔۔۔۔
یہ کہ کر عباد اپنے آفس کے اندر چلاگیا۔۔۔۔سنبل اور ماہشان آخر ہو کہاں تم لوگ ۔۔۔۔مجھ سے آخر کہاں بچ کر چھپی ہوئ ہو عباد سگریٹ کا گہرا کش لگاتے ہوۓ بولا
ادھر ماہشان اور سنبل دونوں ہی عیان کے گھر میں سکون سے تھیں ۔۔۔
ماہشان فاطمہ بیگم کے کمرے میں اپنے آنے والے کل کے نۓ خواب بن رہی تھی اپنی زندگی کو اب اسنے تاریکی سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا اب چاہے کچھ بھی ہوجاۓ اس نے خوش رہنے کا فیصلہ کیا تھا
سنبل بھی سکون سے اپنے کمرے میں سو رہی تھی اپنی ہر پریشانی کو وہ بہت پیچھے چھوڑ آئ تھی اب کبھی نہ مڑنے کی امید لۓ وہ پر سکون تھی اپنی غلطیوں پر وہ نادم نہیں تھی اس کی سوچ میں اس نے جو بھی کیا خود کی بہتری کے لۓ کیا اور آگے بھی خود کو بچانے کے لۓ جو ہوسکا وہ کرے گی لیکن وہ زندگی سے ہار نہیں مانے گی
عیان کو فاطمہ بیگم ماہشان کے بارے میں بتا چکی تھیں وہ بھی اب اپنے کمرے میں سکون سے تھا خوش تھا زندگی میں آگے بڑھنا اور ماضی کو بھول جانا آسان نہیں تھا لیکن اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب ماضی کو وہ کبھی یاد نہیں کرے گا زندگی کو وہ اک موقع دے گا ۔۔۔۔ نا امیدی کفر ہے اور وہ کفر کیوں ہے اسے سمجھ آگیا تھا اللّٰہ جو ساری کائنات کا رب ہے جس کے اک اشارے پر جو وہ چاہتا ہے ہوجاتا ہے وہ تو جب چاہے زندگی کو جس طرح چاہے بدل دے وہ تو جب چاہتا ہے تو ناممکن کو معجزوں کی شکل دے دیتا ہے اس کے لۓ کیا مشکل اک بندے کے غموں کو دور کرنا وہ تو ساری کائنات کے لوگوں کے دلوں کا ہال جانتا ہے اس کے لۓ کسی کے دل کو پھر سے جوڑدینا کیا مشکل وہ تو دلوں کو منور کردیتا ہے سکون بخش دیتا ہے بس امید نہیں چھوڑنی چاہیے جب تک رسی ہاتھ میں ہے تو امید باقی ہے کہ شاید کوئ کھینچ لے اگر رسی ہی چھوڑ دی تو کوئ کیسے کھینچے تو ضروری ہے توکل کرنا وہ بھی بس اسی اک زات سے عیان نے بھی اپنے اللّٰہ سے نۓ کل کی سنہرے کل کی امید لگائ ہے اسے پورا یقین ہے کہ اس کا رب اسے نوازے گا کیونکہ اس کی یہی شان ہے کہ وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے بس انسان ہی کہ پاس وہ آنکھ نہیں کہ اس کی نوازش کو دیکھ سکے جو آسانی سے مل جاۓ اس کی قدر نہیں کرتا جب نہیں ملے تو گڑگڑانے لگتا ہے اور دوسری ہر مہربانی کو بھول جاتا ہے سمجھتا ہے بس جو نہ ملا وہی ہی تھا حاصل حصول جبکہ یہ سب تو بس اس کی ناشکری تھی اور کچھ نہیں ۔۔۔۔
عباد نے سوچ لیا تھا اب چاہے کچھ بھی ہو وہ ان دونوں لڑکیوں کو ڈھونڈ کر ہی رہے گا اس بار وہ خد انہیں ڈھونڈے گا اور سزا بھی اپنے ہی ہاتھ سے دیگا عورت زات سے ہار اس کے لۓ نا قابل برداشت تھی یہ ہار اب اس کا جنون بنتی جارہی تھی اس نے خد سے وعدہ کیا کہ جب تک ان دونوں کو ان کے انجام سے نہیں ملا دے گا سکون کا سانس نہیں لے گا۔۔۔۔
عباد خانزادہ سے ہوشیاری عباد خانزادہ سے دشمنی تم دونوں کو بہت بھاری پڑے گی صوفے سے ٹیک لگاۓ اس نے چلا کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

شیخ زادی

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین