MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

روزنِ تقدیر قسط نمبر 23

#قسط_نمبر_23

#از_قلم__شیخزادی

#روزن_تقدیر

#episode_23

#rozan_e_taqdeer

نیوی بلو تھری پیس میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ آفس میں داخل ہوا
بال سلیقے سے بنے آنکھوں میں بے انتہا رعب لۓ وہ اپنے روم میں چلا گیا
کوٹ اسٹینڈ پر رکھ کر اسنے سب سے پہلے خانزادہ انڈسٹریز کو اپروچ کیا وہ عباد تک رسائ کا کوئ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اک ہاتھ سے جیب سے موبائل نکالتے دوسرے ہاتھ سے کرسی کھینچتے وہ خانزادہ انڈسٹریز کال ملانے لگا
کچھ بیلس گئیں اور فون اٹھا لیا گیا عیان علی خان بات کر رہا ہوں عباد خانزادہ سے آج کی اپائنٹمنٹ ہے بتا سکتے ہیں کب ہے ۔۔۔۔۔کرسی سے ٹیک لگاۓ وہ مطمئن انداز میں بات کر رہا تھا
جی عیان صاحب آپ کسی بھی وقت آجائیں
اوکے۔۔۔۔۔۔۔ چہرے پر مسکان لۓ وہ اٹھا اور آفس سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ خانزادہ انڈسٹریز کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔
کوٹ کو ہاتھ سے ٹھیک کرتے آس پاس کا اک بظاہر سرسری سا جائزہ لیتے وہ اندر داخل ہوا
سیدھا عباد کے کمرے کی طرف جاتے ہوۓ آس پاس کام کرتا ہر شخص اس کی نظر میں تھا اتنے میں اک دم سامنے سے عباد نکل آیا
ارے عیان اللّٰہ خان آیۓ آپ کا ہی انتظار تھا آپنے اپائنٹمنٹ کیلۓ فون کیوں کیا آپ سے بات تو ہوگئ تھی اس تکلف کی کیا ضرورت تھی عباد اسے اندر لاتے بڑے دوستانہ انداز میں بول رہا تھا
بات اصول کی ہے عباد صاحب بزنس میں اصول نہیں تو کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ عیان نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا
آئ ایم امپریسڈ۔۔۔۔۔۔ عباد نے اک آنکھ اٹھا کر کہا آپکے ساتھ کام کرنا اچھا تجربہ ثابت ہوگا
جی انشاللہ ۔۔۔۔۔یہ وہ کچھ پروجیکٹس ہیں جن میں ہم آپکے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔
عباد فائلز دیکھنے لگا عیان کی کمپنی اس کے لۓ بہت فائدے مند تھی اسے اپنے ہر اللیگل کام کی بیک پر اک لیگل کام شو کرنا بہت ضروری تھا
دفعتاً عباد کا فون رنگ ہوا نمبر دیکھتے ہی عباد کے چہرے پر سنجیدگی آگئ
ایک منٹ کہ کر عباد کھڑکی کے پاس چلا گیا۔۔۔
عیان بظاہر اطمینان سے بیٹھا تھا لیکن اس کا دماغ ہر اک چیز نوٹ کر رہا تھا وہ ہ چھوٹی چھوٹی ڈیٹیلز پر غور کر رہا تھا
ادھر عباد کو کسی نے سنبل کی خبر دی تھی۔۔۔سنبل کو عباد کے کسی آدمی نے شاپنگ سینٹر میں دیکھا تھا ۔۔۔۔
اس کو فوراً موقع ملتے ہی پکڑو کہاں ہے وہ میں خد آتا ہوں ۔۔۔۔۔
سر وہ کسی عورت کے ساتھ ہیں ۔۔۔مقابل نے فاطمہ بیگم کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
چاہے مار نا ہی کیوں نہ پڑے اسے لیکن مجھے سنبل چاہیئے پیچھا کرو اسکا میں آرہا ہوں
فون بند کر کے وہ سیدھا عیان کے پاس آیا
مجھے چلنا ہوگا۔۔۔۔۔اپنا سامان سمیٹتے وہ جلد بازی میں بولا
خیریت تو ہے عباد صاحب بیچ میں میٹنگ چھوڑ کر جا رہے ہیں ہاں ضروری کام ہے چلنا ہوگا میں سائن کر دیتا ہو آپ ڈیل فائنل سمجھیں عباد نے کانٹریکٹ پر جلدی جلدی سائن کۓ اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
عیان نے جیب سے فون نکالا اور کال ملائ۔۔۔۔
ابراہیم جلدی کرو امی مجھے ہر حال میں سیف چاہیئے ۔۔۔۔ فوراً انہیں وہاں سی نکال کر گھر پہنچاؤ ۔۔۔۔ اک منٹ کی لا پرواہی نہ کرنا
عیان نے اٹھ کر فوراً اس کے کمپیوٹر سے ڈیٹا نکالنا چاہا ۔۔۔۔اس کے کمپیوٹر کو اکسسیس کرنا مشکل تھا لیکن وہ عیان ہی کیا جو اپنا کام ادھورا چھوڑ دے اس نے کچھ بٹنس دباۓ اور عباد کا لیپ ٹاپ اوپن ہوگیا اس کے پاس کچھ ہی منٹس تھے اسے آفس سے نکلنا تھا ورنہ اس پر شک جاتا ۔۔۔۔
اس نے جلدی جلدی سارا ڈیٹا ٹرانسفر کیا اور کانٹریکٹ پیپر اٹھاۓ اور وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
راستے میں ہی ابراہیم اسے مل گیا
گاڑی سے اترتے ہی وہ فاطمہ بیگم کے پاس گیا ۔۔۔۔
اسلام وعلیکم امی ٹھیک ہیں آپ ہاں بیٹا مجھے کیا ہونا ہے فاطمہ بیگم نے بڑے پیار سے کہا
وہ فاطمہ بیگم کے گلے لگ گیا مجھے معاف کردیں امی مجھے یوں آپ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے تھا۔۔۔۔عیان فاطمہ بیگم کے گلے لگے لگے بولا
ارے بچا کیا ہوگیا بہادروں کی ماؤں کو کمزور سمجھا ہے کیا آپنے مجھے تو آج بہت خوشی ہوئ ہے کہ میں اپنے ملک کے کوئ کام آسکی اور خاص طور پر اپنے شیر کے فاطمہ بیگم عیان کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر بولیں۔۔۔۔۔آپ بس اسے مت چھوڑنا ہمارے گھر کی بچی کو بھی بڑا ستایا ہے اس نے ۔۔۔ فاطمہ بیگم سنبل کی طرف دیکھ کر بولیں
سنبل جو ہر بات سے انجان تھی ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔دوری کی وجہ سے وہ کچھ سن بھی نہیں پا رہی تھی
امی اس نے ناجانے کتنی لڑکیوں کو ستایا ہے وہ ہر اک کا حساب دےگا اللہ کے حکم سے عیان پر امید تھا چلیں امی گھر چلتے ہیں یوں ایسے خطرہ ہے
ان دونوں کو اپنی کار میں بٹھا کر عیان گھر کی طرف روانہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
راستے میں انہوں نے کوئ بات نہیں کی سنبل کے سامنے عیان کوئ بات نہیں کرنا چاہتا تھا
لیکن سنبل کو بے چینی لگی ہوئ تھی بیچ شاپنگ سے یوں اچانک انجان بندے کا انہیں لے آنا اور راستے میں عیان کا فاطمہ بیگم کے ساتھ ایموشنل ہونا اسے ہضم نہیں ہو رہا تھا ۔لیکن پوچھتی کیسے اسی لۓ خاموشی سے بیٹھی رہی ۔۔۔
پتا تو میں لگا ہی لوں گی چل کیا رہا ہے وہ خد سے گویا ہوئ۔۔۔
گھر پہنچ کر عیان شاپنگ کے سارے بیگ اٹھاۓ اندر آگیا فاطمہ بیگم اور سنبل بھی اس کے ساتھ اندر آئیں
ماہشان جو کچن سے نکل رہی تھی وہیں رک گئ۔۔۔
اسلام و علیکم سب کو سلام کرتی وہ پانی کا جگ ہاتھوں میں لۓ فاطمہ بیگم کے پاس آکھڑی ہوئ۔۔۔۔
سوٹ پہنے آنکھوں پر چشمہ لگاۓ ہاتھوں میں شاپنگ بیگ لۓ عیان کو دیکھ کر اسے دل میں خوشی محسوس ہوئی یہ جزبات اس کے دل کو زندہ کر رہے تھے اگر یہ کوئ خواب تھا تو وہ کبھی اٹھنا نہیں چاہتی تھی وہ ہمیشہ اسی طرح خوش رہنا چاہتی تھی
یہ لیں آنٹی پانی پیئیں فاطمہ بیگم کی طرف بڑے پیار سے اسنے پانی کا گلاس بڑھایا
جزاکاللہ بیٹا آو تمھیں شاپنگ دکھاؤں عیان بیٹا میرے کمرے میں رکھ دو یہ سب فاطمہ بیگم اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوۓ بولیں
میں لے جاتی ہوں عیان سنبل اک دم عیان سے چیزیں لینے لگی ماہشان نے اک لمحے کے لۓ سنبل کو دیکھا اور فاطمہ بیگم کے ساتھ چلی گئ۔۔
پیچھے رہو سنبل کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر ٹکرانے سے وہ اکدم پیچھے ہٹا اور سیدھا فاطمہ بیگم کے کمرے میں جانے لگا کہ سنبل پیچھے سے بولی اتنے برسوں کی دوستی کو بھی بھول گۓ تم ۔۔باقی سب تو بھول ہی گۓ ہو
عیان نے مڑ کر اک قہر آلود نظر اس پر ڈالی اور واپس مڑ کر فاطمہ بیگم کے کمرے میں چلا گیا
سامان سامنے کمرے میں رکھ کر وہ فوراً ہی کمرے سے باہر آگیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے عیان سنبل جو اس کا انتظار کر رہی تھی اک دم بولی
دیکھو سنبل تم یہاں مہمان ہو تم مشکل میں تھیں میں نے تمھاری مدد کی ڈیٹس اٹ اس نے ڈیٹس اٹ پر زور دیتے ہوۓ کہا
اگر کوئ اور بھی ہوتا تو میں یہی کرتا اور جہاں تک کی بات ہے دوستی کی تو گرو اپ سنبل اب ہم بچے نہیں ہیں اور اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ تم نے جو کچھ ہمارے ساتھ کیا میں وہ بھول گیا ہوں تو یہ تمھاری بھول ہے تمھارا کہا ہر الفاظ یہاں دفن ہے اس نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر دستک دیتے ہوۓ کہا
کیونکہ تم مجھ سے محب۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ کہ ہی رہی تھی کہ عیان اک دم آگ بگولہ ہو گیا
خبردارررر۔۔۔۔۔۔۔۔خبردار جو آئندہ کے بعد یہ لفظ استعمال کیا تو ماضی کی کڑواہٹوں کو میں نے کب کا ختم کردیا ہے۔۔۔۔۔۔ سکون سے رہو بھی اور رہنے بھی دو آئندہ بے مقصد میرے بارے میں کوئ گمان نہ لگانا
اور اک اور بات میں آج تم سے کلئر کرلوں تم مجھے پسند تھیں میری دوست تھیں اور میری امی کی پسند تھیں اس کے علاؤہ تم سے میرا اور کوئ تعلق نہیں تھا محبت میں نے کبھی بھی تمھارے لۓ محسوس نہیں کی کیونکہ محبت پاک رشتہ ہے اس کے لۓ محرم ہونا ضروری ہے اور تم میری محرم نہ کل تھیں نہ آج ہو
پھر ماہشان سے کیوں کرتے ہو محبت سنبل اک دم تڑخ کر بولی اسے اس وقت اپنی بے عزتی محسوس ہورہی تھی
محبت عیان نے لبوں پر تنظیہ مسکراہٹ لا تے ہوۓ بولا
میں ان کی عزت کرتا ہوں سمجھیں تم عزت ۔۔۔۔۔اس نے اک اک لفظ چبا چبا کر بولا سامنے نظر اٹھی تو ماہشان کھڑی تھی
ماہشان پر اک نظر ڈالتے وہ سیدھا سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے میں چلا گیا
سنبل نے عیان کی نظروں کا احاطہ کرتے ہوۓ مڑ کر ماہشان کو دیکھا اور بھاگتی ہوئ اپنے کمرے میں چلی گئ اک تو عیان نے اس کی بے عزتی کی تھی اوپر سے ماہشان نے بھی سب سن لیا اسے شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔۔
اپنے بال ہاتھوں میں جکڑتی وہ زمین پر بیٹھ گئ۔۔۔۔چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ۔۔۔ مجھے اگنور کرکے تم سکون سے نہیں بیٹھ سکو گے اتنی بے عزتی۔۔۔۔
تم کل بھی ایسے ہی تھے تم آج بھی ویسے ہی ہو سنگ دل۔۔۔۔
سنگ دل۔۔۔۔۔ کہتے اس نے اپنی چیخ کو اندر ہی دبا لیا
اپنی آنکھ سے گرتا آنسوں پونچھا اور شدت سے زمین پر اپنا ہاتھ مارتی بولی
اگر تم تب مجھے محبت دیتے میرا خیال رکھتے تو میں کبھی عباد کے ہاتھوں برباد نہ ہوتی
کیا مانگا تھا میں نے تم سے محبت اور کیا ۔۔۔۔۔
لیکن تم نے کیا کیا صرف میری تزلیل۔۔۔۔
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی روتے روتے اکدم اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آیا اور وہ بیہوش ہوگئ

جاری ہے

شیخ زادی

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین