MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

روزنِ تقدیر قسط نمبر 24

قسط_نمبر_24

#از_قلم__شیخزادی

#روزن_تقدیر
#episode_24

#rozan_e_taqdeer

+++++++++

عیان اپنے کمرے میں آگیا تھا لیکن اب اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اس نے سنبل سے بہت روڈ بات کی تھی اسے شرمندگی محسوس ہورہی تھی
سوچ کے تسلسل کو جھٹک کر وہ فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔
فریش ہوکر وہ سیدھا اپنی اسٹڈی میں جانے لگا بال گیلے سفید شلوار قمیض پر بکھرے بالوں میں وہ بہت ہینڈ سم لگ رہا تھا کمرے سے باہر ہی نکلا تھا کہ ماہشان جو اپنے کمرے میں جا رہی تھی اس کی نظر اس پر پڑی ۔۔۔۔گرین کلر کے سوٹ میں سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے اس طرح کے اس کا چہرہ بھی صحیح سے واضح نہیں ہورہا تھا وہ اسے دیکھتا رہ گیا
ماہشان نے بھی اک نظر اٹھا کر اسے دیکھااور سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئ
سدھر جا عیان یہ کہ کر عیان نے اپنے سر پر اک زور دار ہاتھ مارا اور سیدھا مسکراتا ہوا اسٹڈی میں چلا گیا
ابھی وہ فائلز کو لیپ ٹاپ میں ٹرانسفر کر ہی رہا تھا کہ ماریہ نے زور زور سے دروازہ بجایا ۔۔۔۔
وہ جو آج کام کرنے کے موڈ میں تھا اس طرح سے دروازہ بجانے پر غصہ میں آگیا

لیپ ٹاپ کو بند کرکے اس نے فائلز دراز میں ڈال کر دراز لاک کی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا دروازے کی جانب بڑھا ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے دروازہ کھول کر وہ غصے میں بولا
سر وہ میڈم آپ کو بلا رہی ہیں ماریہ نے گھبراتے ہوۓ کہا
کیا ہوا امی کو وہ اک دم بھاگتا ہوا سیڑھیاں اترا
دیکھا تو اس کی امی سنبل کے دروازے پر پریشان کھڑی تھیں
کیا ہوا امی ۔۔۔۔۔ فاطمہ بیگم کو پریشان دیکھ کر وہ اور بھی پریشان ہو گیا تھا
بیٹا سنبل دروازہ نہیں کھول رہی ہے
تو امی سو رہی ہوگی عیان نے اک دم نارمل ہوتے جواب دیا
نہیں بیٹا میرا دل گھبرا رہا ہے آپ دروازہ کھلواؤ
امی فون کر لیتے ہیں اس کے نمبر پر ہوسکتا ہے ہینڈ فری لگی ہو اسکے کانوں میں اور وہ کچھ کر رہی ہو موبائل پر
نہیں بیٹا۔۔۔۔۔۔ کیا ہے فون ۔۔۔وہ نہیں اٹھا رہی آپ دروازہ کھلواؤ فوراً اب کی بار فاطمہ بیگم زرا غصے سے بولیں
اچھا امی رکیں وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور اک چابیوں کا گچھا لے کر آیا اس کے پاس گھر کے ہر کمرے کی ایکسٹرا چابی موجود تھی
اب وہ کمرے کا دروازہ کھول رہا تھا مطلوبہ چابی کو اتنی ساری چابیوں میں ڈھونڈنا تھورا وقت لے رہا تھا
آخر کار آواز آئ اور دروازہ کھل گیا عیان نے فاطمہ بیگم کو اندر جانے کا اشارہ کیا اور خد وہیں گیٹ پر رک گیا
فاطمہ بیگم بھی اک نظر اس پر ڈال کر اندر چلی گئ اندر جاتے ہی انہوں نے اک دم زور سے بولا۔ …..یا اللّٰہ خیر …..سنبل میری بچی
عیان بھی فاطمہ بیگم کی آواز سن کر اندر کی جانب بڑھا
اندر سنبل بیہوش پڑی تھی
عیان جلدی ڈاکٹر کو بلاؤ جلدی وسیم کو فون کرو اسے کہو جلدی گھر آۓ فاطمہ بیگم ماریہ کی مدد سے سنبل کو بیڈ پر لٹاتے بولیں
سنبل میری جان اٹھیں نہ بیٹا فاطمی بیگم مسلسل اسے ہوش میں لانے کی کوششیں کر رہی تھیں
ادھر عیان
وسیم کو بلانا نہیں چاہ رہا تھا اسے ڈر تھا وسیم سنبل کو یہاں دیکھ کر عباد کو اس کی خبر دے دے گا
اس نے دوسرے ہاسپٹل سے لیڈی ڈاکٹر کو بلوالیا
ڈاکٹر تھوڑی ہی دیر میں آگئ تھی اس نے سنبل کو کچھ عدد ٹیسٹ کا کہا اور دوا دیکر چلی گئ اس کے مطابق اسٹریس کی وجہ سے سنبل کی یہ حالت ہو گئ تھی عیان تو شرمندہ ہی ہوگیا تھا کیونکہ اس نے آج سنبل کے ساتھ صحیح سلوک نہیں کیا تھا
عیان کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا اتنے میں فاطمہ بیگم کمرے سے باہر آئیں عیان کو سوچوں میں گم پاکر وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں
ابھی سو رہی ہے ۔۔۔بچاری میری بچی ناجانے کس انسان سے اس کی شادی ہوگئ اللّٰہ جانے کس حال میں تھی شکر ہے یا رب آپ نے اسے وہاں سے رہائی دلوائی فاطمہ بیگم عیان کے پاس بیٹھ کر اپنے ہی دھیان میں بول رہی تھیں
امی مجھ سے غلطی ہوگئی عیان نیچے دیکھتے دیکھتے بولا
کیا ہوا ۔۔۔کہیں آپنے تو کچھ نہیں کہا فاطمہ بیگم آنکھوں میں حیرت لۓ بولیں
عیان نے کچھ نہیں کہا بس ہلکی سی سر کو جنبش دی
میں نے آپکی ایسی تو پرورش نہیں کی تھی عیان۔۔۔۔۔
تو کیا فرق رہ گیا آپ میں اور ان لوگوں میں
بیٹا نیکی کرنا آسان ہے لیکن اس کو قائم رکھنا مشکل ہے ہم اکثر جس کے ساتھ نیکی کرتے ہیں اسی کے ساتھ ظلم کر بیٹھتے ہیں بیٹا یہ شیطان کے وار ہوتے ہیں ہماری نیکی برباد کرنے کے لۓ اور اک مومن کو ایسے کمزور نہیں ہونا چاہیئے
مجھے نہیں معلوم آپ نے کیا کہا لیکن یہ غصہ آپ نے پہلے تو کبھی نہیں نکالا تو آج کیوں ۔۔۔۔ کیونکہ آج وہ آپ کے احسان تلے ہے
کسی کا آپ سے امید رکھنا اللہ کا آپ پر فضل ہے اسے ایسے تو ضائع نہ کریں وعدہ کریں آئندہ ایسا نہیں کریں گے
جی امی میں وعدہ کرتا ہوں عیان ابھی تک نیچے ہی دیکھ رہا تھا وہ بہت شرمندہ تھا اسے بہت پہلے ہی اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی ریئکٹ کر گیا ہے لیکن سنبل اس بات کو اس قدر دل پر لے لے گی اسے اس بات کی توقع نہیں تھی
چلیں میں سنبل کے پاس جا رہی ہوں وہ جاگ جاۓ تو آپ بھی اس سے بات کر لینا فاطمہ بیگم خفگی سے کہتی سنبل کے کمرے میں چلی گئیں

عیان بھی ان کے پیچھے ہی سنبل کے کمرے میں چلا گیا
ماہشان کو ابھی ماریہ سے پتا چلا تھا وہ سنبل کی خیریت لینے کے لۓ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی اک لمحے کے لیے دونوں کی نظریں ملیں ۔۔۔
عیان ماہشان کے آتے ہی کمرے سے چلا گیا
ماہشان فاطمہ بیگم سے صورت حال معلوم کرنے لگی اور وہیں بیٹھ گئی فاطمہ بیگم خاصی پریشان تھیں ماہشان انھیں دلاسہ دینے لگی تھوری ہی دیر میں سنبل کو ہوش آنے لگا فاطمہ بیگم فوری اس کے پاس لپکیں بیٹا آپ ٹھیک ہیں اب
پتا نہیں چاچی میں کیسے بہوش ہوگئ شاید ویکنیس ہوگئ ہے فاطمہ بیگم مستقل اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر رہںیں تھیں چلیں کوئ نہیں بچے آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہے آپ کسی بھی قسم کا اسٹریس نہ لیں ڈاکٹر بھی یہی کہ کر گئ ہے
سنبل جواب میں خاموش ہی رہی وہ اب تک اپنی تزلیل پر غصہ تھی اس لیئے فلحال کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
ماہشان نے بھی اس کی خیریت دریافت کی اور پھر وہاں سے چلی گئ
فاطمہ بیگم بھی اسے آرام کا کہ کر وہاں سے چلی گئیں۔۔۔
دروازے کے باہر رک کر اس نے اک سرد آہ بھری اور دروازہ ناک کیا
آجاؤ۔
میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا عیان کرسی پر بیٹھا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دیکھتا ہوا بولا
میں امید سے ہوں عیان
ابھی عیان کہ ہی رہا تھا کہ سنبل اک دم بولی مجھے تم سے پیار محبت نہیں چاہیے مجھے بس اپنا دوست واپس چاہیئے میں نے بہت غم اٹھاۓ ہیں عیان۔۔۔۔ محبت تو میرے نصیب میں تھی ہی نہیں اس کی آرزو اب میرے دل سے نکل گئ ہے
تمھیں کیسے پتا کیا ڈاکٹر نے بتایا
نہیں مجھے پہلے سے معلوم تھا تبھی میں نے وہاں سے بھاگنے کا فیصلہ کیا میں اپنی اولاد کو اس حیوان کے حوالے نہیں کرسکتی
تو تم نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائ کیا امی کو پتا ہے عیان کے زہن میں کئ سوالات اٹھ رہے تھے
نہیں میں نے نہیں بتایا چاچی کو میں خد ابھی بہت الجھن میں ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں
ا چھا چلو اپنا دھیان رکھو اور آرام کرو
ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا میں بس غصے میں بول گیا
سنبل خاموش چھت کو تکتی رہی
اور عیان کہ کر کمرے سے چلا گیا

******************
اسٹڈی میں آکر اب وہ پھر سے اپنے کام کو پورا کرنا چاہتا تھا
اس نے پوری فلیش ڈرائیو کھنگال ڈالی
عیان کو بہت سی انفارمیشن ملی تھی لیکن ابھی بھی اسے یہ پتا نہیں چلا تھا کہ پولیس میں اس کی پہنچ کہاں تک ہے اور اس کے ہیلپنگ ہینڈز کون کون ہیں لیکن جتنے نام اسے پتا چلے تھے آج سے ہی اسے ان پر ورکنگ کرنی تھی اک اک کرکے اسے عباد کو کمزور کرنا تھا تاکہ وہ بچ نہ سکے پہلا نام جو اس کے ہاتھ لگا تھا وہ تھا منصور جو کہ کراچی سے تھا
جیب سے فون نکال کر اس نے کسی پرائیویٹ نمبر پر کال ملائ
سر مجھے بہت اہم انفارمیشن ملی ہے لیکن اس کے لۓ مجھے کراچی جانا ہوگا
لیکن عیان یوں کراچی جانے کے لۓ تمھارے پاس کوئ وجہ ہونی چاہیے ورنہ اگر کسی کو تم پر شک ہوا تو ان کا شک صحیح ثابت ہوجاۓ گا
سر وجہ ہے میرے پاس عیان مسکراتے ہوۓ بولا
تو پھر ٹھیک ہے ڈو یوئر جاب جینٹل مین

***********************

سنبل کی طبیعت اب ٹھیک تھی گھر کو شادی کے گھر کے حساب سے سجا دیا گیا تھا ہر طرف روشنی چہل قدمی افراتفری لگی ہوئ تھی
آج ماہشان کی مایوں کی رسم تھی ہلکے پیلے جوڑے میں ماتھے پر ہلکا سا ٹیکا لگاۓ کانوں میں جھمکے پہنے وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
ہاتھوں کو اس نے ہر قسم کی جیولری سے آزاد رکھا ہوا تھا
دوپٹے کے کناروں پر ہلکا ہلکا گوٹا لگا تھا جو کہ فاطمہ بیگم نے کینیڈا میں بڑی محنت سے ڈھونڈا تھا
میک اپ کے نام پر صرف ہلکی سے لپ اسٹک لگاۓ وہ صوفے پر بیٹھی ہوئ تھی
یہ صرف عورتوں کا فنکشن تھا اس لۓ ماہشان نے تھوڑے سے بال بھی آگے کو کرل کر کے ڈال لۓ تھے۔۔
میری پیاری بچی اللّٰہ تم دونوں کو ڈھیروں خوشیاں دے فاطمہ بیگم ابٹن لگاتے بولیں ماہشان نے شرم سے نظریں جھکا لیں وہ آج بہت خوش تھی اور اس کی خوشی اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھی
اتنے میں اک دم کسی کے سلام کی آواز آئی
اسلام و علیکم بیٹا اتنی دیر کردی ایسے کوئ کرتا ہے کیا اپنوں کی شادی میں فاطمہ بیگم آمنہ سے گلے لگتے ہوۓ بولیں
ارے آنٹی ان دونوں کا اسکول تھا آج بس جیسے ہی یہ دونوں آۓ میں بھی آگئ دلہن کہاں ہے زرا ہمیں بھی ملوائیں
اسلام۔۔۔۔۔ آمنہ کی نظر جیسے ہی ماہشان پر پڑی وہ وہیں حیرت سے رک گئی
ماہشان تم۔۔۔۔۔
ماہشان بھی پھٹی پھٹی آنکھیں لۓ اسے دیکھنے لگی
آمنہ ۔ا۔۔۔ یہ کہتے ہی ماہشان اک دم اٹھ کر آمنہ کے گلے لگ گئ آمنہ بھی ماہشان سے بڑے جوش سے ملی
ماہشان تم یہاں مطلب تمھاری شادی عیان بھائ سے ہو رہی ہے او مائ گاڈ سوچا بھی نہیں تھا یوں تم سے ملاقات ہوگی
کیسی ہو تم آمنہہ ماہشان کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں
ارے بیٹا آپ دونوں اک دوسرے کو جانتی ہیں فاطمہ بیگم نے حیرت سے کہا
اری آنٹی ماہشان اور میں کالج فرینڈز تھیں اور ماہشان کچھ دن ہمارے گھر رکی بھی تھی جب۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کہتے کہتے آمنہ اک دم رک گئ اور ماہشان کو دیکھنے لگی
چلیں چھوڑیں آنٹی یہ بتائیں عیان بھائ کہاں ہیں
عیان بیٹا کہیں باہر گیا ہے کام سے
ارے شادی کے دنوں میں بھی کام حد کرتے ہیں عیان بھائ بھی اتنی پیاری لڑکی کے پاس بیٹھتے تو کیا جچتی ان دونوں کی جوڑی
یہ بات سن کر فاطمہ بیگم مسکرا دیں پاس بیٹھتے یہ دونوں تو دیکھتے تک نہیں اک دوسرے کو
کیوں ۔۔۔۔آمنہ حیرت سے فاطمہ بیگم کو دیکھنے لگی
ارے دونوں با پردہ ہیں وہ نگاہ کی حفاظت کرتا ہے اور یہ میری بیٹی خد کی فاطمہ بیگم بڑے فخر سے بولیں
آمنہ ماہشان کو حیرت سے دیکھنے لگی کیونکہ وہ جس ماہشان کو جانتی تھی وہ تو اس سے مختلف تھی
اس کا مطلب تم ان سب کو دھوکہ دے رہی ہو ماہشان۔۔۔۔۔ یہ سب کرنے کے لۓ تمھیں یہی صاف دل لوگ ملے آمنہ دل ہی دل میں ماہشان سے گویا ہوئی
فزا اور علی نے تو آتے ہی پورا گھر سر پر اٹھا لیا تھا کبھی ادھر کبھی ادھر لیکن آمنہ جب سے ماہشان سے ملی تھی بالکل گم سم تھی ۔۔۔ ماہشان پر اک ٹک نظریں جماۓ وہ سب کے بیچ میں بیٹھی بالکل خاموش تھی
ماہشان بھی آمنہ کی نظریں خد پر محسوس کرتی بے چین ہو رہی تھی ماہشان اچھے سے جانتی تھی کہ آمنہ اس وقت کیا سوچ رہی ہے ۔۔۔آخر کو وہ اس کی دوست تھی ہمراز تھی۔۔۔۔بچپن سی جوانی تک کی ساتھی تھی ۔۔۔
اک آمنہ ہی تو تھی جس سے ماہشان اپنا ہر غم ہر دکھ بانٹتی تھی۔۔ اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگےاتنے میں ہی عیان گھر میں داخل ہوا
بلیک کلر کی پینٹ پر اسنے وائٹ شرٹ اور مہرون کلر کا کوٹ پہنا ہوا تھا ہاتھوں میں ڈھیر سارا سامان لۓ وہ گھر میں داخل ہورہا تھا
ارے عیان بیٹا آگۓ ۔۔۔اسلام و علیکم
سب سامان مل گیا نا فاطمہ بیگم شاپنگ بیگز کو دیکھتے ہوئے بولیں
آمنہ نے عیان کو دیکھ لیا تھا وہ اک نظر ماہشان پر ڈال کر سیدھی عیان کے پاس گئی
ماہشان آمنہ کو جاتے ہوۓ دیکھ رہی تھی وہ جانتی تھی آمنہ اب کیا کرے گی لیکن اس کے دل میں اس کے باوجود بھی کوئ ڈر کوئ خوف نہیں تھا کیونکہ اب وہ عیان کو بھی جان گئ تھی اسے عیان پر بھروسہ تھا اور یہ اعتماد عیان نے خد جیتا تھا
اسے اگر کوئ چیز پریشان کۓ ہوۓ تھی تو وہ تھے وہ گناہ اسے حیرت تھی کہ گناہ کیسے کسی کا پیچھا نہیں چھوڑتے آپ چاہے کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جاؤ یہ آپکے ساتھی بن جاتے ہیں اور ہر موڑ پر آپکو اپنی یاد دلاتے ہیں اک آنسو پشیمانی کا اس کی آنکھ سے گرنے کو ہی تھا کہ ماہشان نے اپنی انگلی سے وہیں اس کو روک دیا اور مصنوعی مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر سجا لی
ارے آنٹی دو دن میں اس کی شادی ہے اور آپ بچارے سے کام کروارہی ہیں آمنہ خوش دلی سے فاطمہ بیگم کے پاس آکر بولی
ارے آمنہ بھابھی اسلام و علیکم وسیم نہیں آیا
عیان ادھر ادھر نظروں سے وسیم کو ڈھونڈتا ہوا بولا
ہاں وہی چھڑ کر گۓ ہیں کہ رہے تھے رات میں آئیں گے ابھی میرا کیا کام لڑکیوں کے فنکشن میں ۔۔۔۔۔ تو میں نے بھی کہا آپکے دوست کا بھی تو ہے آپ اسے ابٹن لگا دینا
سب اک ساتھ زور سے ہنسے میں کہاں بھابھی مجھے رہنے دیں میرے لۓ تو یہی کافی ہے کہ اللہ نے ان کے دل میں ہاں ڈال دی عیان نے ماہشان کی طرف اشارہ کرتے بولا اور اک منٹ کے لۓ اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔
آج وہ اس کے لۓ ایسے بیٹھی تھی اس کے نام کا ابٹن لگا رہی تھی دل میں خوشی کی اک لہر سی اٹھی آج تو وہ معصوم چہرہ اور پر نور لگ رہا تھا
ماشاءاللہ عیان کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلا
ماہشان نے عیان کو دیکھ کر سر اور زیادہ جھکالیا اس بار اسکا چہرہ بالکل لال ہوگیا دل زور زور سے دھڑکنے لگا
عیان کی نظروں کا تسلسل آمنہ کی آواز سے ٹوٹا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے عیان بھائ
ہاں بولیں عیان نے ماہشان سے نظریں ہٹاتے ہوۓ بولا
تم دونوں بات کرو میں مہمانوں کو دیکھ لوں فاطمہ بیگم یہ کہ کر وہاں سے چلی گئیں
یہاں نہیں کہیں اور یہاں بہت لوگ ہیں
ؔخیریت بھابھی کوئ پریشانی ہے آئیں اسٹڈی میں وہ یہ کہتا سیدھا سیڑھیاں چڑھتا اسٹڈی میں چلا گیا آمنہ بھی اس کے پیچھے اسٹڈی میں چلی گئ۔۔۔

جاری ہے

شیخ زادی

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین