MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

روزنِ تقدیر قسط نمبر 26

#قسط_نمبر_26 #از_قلم_شیخزادی
#روزن_تقدیر #episode_26 #rozan_e_taqdeer

نیچے آکر آمنہ ماہشان کے پاس بیٹھ گئ
ماہشان بس خالی آنکھیں لۓ اسے دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں نہ کوئی سوال تھا نہ ہی ملال بس وہ آمنہ کو دیکھ رہی تھی
تم جانتی ہو میں ابھی کہاں تھی آمنہ اپنے ہاتھوں پر نظریں جماۓ ماہشان سے بات کر رہی تھی
ماہشان نے ہاں میں سر ہلایا
کیا تم جانتی ہو میں وہاں کیوں گئ تھی آمنہ نے اس بار نظریں اٹھا کر ماہشان کو دیکھا آمنہ کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں
ماہشان نے اس بار بھی ہاں میں سر ہلایا اور اسے دیکھتی رہی
جاننا چاہتی ہو اس نے کیا جواب دیا
اس بار اک آنسوں ماہشان کی آنکھ سے گرا
بس اب رونا نہیں ہے……آمنہ نے اس کا آنسو پونچھتے ہوۓ کہا اسے تم پر یقین ہے اور مجھے اس کے یقین پر یقین۔۔۔۔۔ بس ہمیشہ ایسی رہنا تمھیں اس طرح دیکھ کر مجھے بہت خوشی ملی ہے ماہشان یہ کہ کر آمنہ اس کے گلے لگ گئ۔۔۔۔
ارے لڑکیوں کیا رونا دھونا مچایا ہوا ہے بس بھی کرو اور کہاں تھی تم اتنی دیر سے فاطمہ بیگم آمنہ کو ڈانٹتے ہوۓ بولیں ۔۔۔۔
اچھا آنٹی اب نہیں روتے اور میں عیان سے کچھ بات کرنے گئ تھی آمنہ ماہشان سے الگ ہوتی اسے اپنے قریب کرتی بولی
چلو جلدی سے تم بھی رسم کرلو فاطمہ بیگم بڑے پیار سے کہتی وہاں سے چلی گئیں ماہشان کی خوشی کا اس وقت کوئ ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔۔ اس کی دوست اسے آج اتنے عرصے بعد ملی تھی۔۔۔ حالانکہ یہاں سب اسکا بہت خیال رکھ رہے تھے لیکن پھر بھی اسے اپنوں کی کمی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
اسے اندازہ نہیں تھا کہ اللّٰہ یوں اس کے ہر دکھ کو دور کردے گا۔۔۔
اس کی آنکھوں سے اس کی خوشی صاف جھلک رہی تھی
پورا فنکشن بڑے اچھے سے ہوا سارے مہمان بھی اپنے گھر جا چکے تھے ماہشان اور آمنہ ماہشان کے کمرے میں تھیں اور عیان وسیم کے ساتھ لاؤ نج میں بیٹھا تھا
تمھارا کام ہوگیا تھا اس دن وسیم نے چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ عیان سے پوچھا
کون سا کام ۔۔
ارے وہ میٹنگ تھی نہ عباد کے ساتھ ہوگیا کانٹریکٹ وسیم نے چاۓ کا کپ میز پر رکھتے ہوۓ کہا
ہاں ہوگیا کام بس اک آدھ دن میں شروع کریں گے اس دن کے بعد ملاقات نہیں ہو پائے ان کی سیکریٹری بتا رہی تھی وہ امریکہ چلے گۓ ہیں عیان نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوۓ بولا
ہاں عباد کا یہی لگا رہتا ہے کبھی کہیں کبھی کہیں ۔۔۔۔اب دیکھو کب آتا ہے ۔۔۔۔ چھوڑو عباد بھائ کو یہ بتاؤ شادی کے بعد گھومنے کہاں جا رہے ہو وسیم نے عیان کو چھیڑتے ہوۓ کہا
پاکستان عیان نے فوراً جواب دیا
ہیں پاکستان۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کیوں وسیم کو حیرت ہوئ
ماہشان کو ان کی فیملی سے ملوانے عیان نے مسکرا کر جواب دیا
چلو یہ تو اچھی بات ہے وسیم کو عیان کا آئیڈیا اچھا نہیں لگا تھا لیکن ماہشان کی فیملی کا نام سن کر اس نے کچھ کہا نہیں
یہ آمنہ کو اس کی دوست کیا مل گئ بھول ہی گئے مجھے تو آمنہ چلنا نہیں ہے کیا وسیم نے آمنہ کو آواز دی
آگئ آگئ آمنہ جلدی جلدی ماہشان سے ملتی وسیم کے پاس آئی
آپ بھی نہ اتنے سالوں بعد مجھے میری دوست ملی ہے زرا جو صبر کرلیں خد گھنٹوں عیان بھائ کے ساتھ رہتے ہیں میں نے کبھی کچھ کہا آمنہ ناراضگی سے بولی
جاؤ بھئ تم یہیں رک جاؤ ہم چلے جاتے ہیں وسیم نے بچوں کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا
اب کیا اب چلیں لیکن کل صبح ہی چھوڑ دیجیۓ گا مجھے یہاں آمنہ منہ بناتے ہوۓ بولی
ہاں ہاں ٹھیک ہے اب چلیں وسیم نے ہنستے ہوۓ کہا
سنبل جو پانی پینے کے لۓ کمرے سے نکل رہی تھی اس کی نظر آمنہ پر پڑی اور وہ ڈر کر سیدھی واپس کمرے میں بند ہوگئی ۔۔۔
سنبل کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا یہ چہرہ تو وہ کبھی نہیں بھول سکتی تھی عباد کے گھر میں جگہ جگہ آمنہ کی تصویریں تھیں ۔۔۔۔
یہ یہاں کیسے ۔۔۔۔ کہیں انہیں میرا پتہ تو نہیں چل گیا ۔۔۔۔ یا اللّٰہ مجھے بچالے۔۔۔۔اب میں کیا کروں گی۔۔۔۔سنبل ڈر کے مارے کانپ رہی تھی
عباد ۔۔۔۔ تم میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔۔۔ کہاں جاؤں میں آخر کہاں چھپوں۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسوں تواتر بہ رہے تھے ۔۔۔
عیان کہاں ہو تم۔۔۔۔عیان کا خیال آتے ہی اس نے عیان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اب وہ آمنہ کے جانے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
**********************
آمنہ کو کسی کی موجودگی محسوس ہوئی تو اس نے عیان سے پوچھا
بھائ وہاں کون ہے
وہاں میری کزن ہے پاکستان سے آئ ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اسی لۓ آرام کر رہی ہے
خیریت کون….؟؟؟؟
سنبل۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
وسیم نے عیان اور فاطمہ بیگم سے سنبل کا کئ دفع زکر سن رکھا تھا اس لۓ فوراً پہچان گیا
ہاں ۔۔۔ سنبل آئ ہے۔۔۔۔
خیریت وسیم کو حیرت ہوئی
ہاں وہ تایا کی ڈیتھ ہوگئ ہے نہ اس لۓ عیان نے بہانہ بنایا
لیکن تم نے تو بتایا تھا اس نے شادی کر لی ہے وسیم ابھی بھی الجھن میں تھا
ارے بھائ ہمیشہ کے لۓ تھوڑی آئ ہے کچھ دن کے لۓ امی سے ملنے آئ ہے چلی جاۓ گی ۔۔۔عیان نے بات کو مزاق کی طرف گھما دیا
اتنے سالوں میں اسے بھی تمھاری شادی کے دنوں میں ہی آنا تھا واہ بھئ واہ۔۔۔ وسیم کو سنبل کا عیان کے گھر آنا اک آنکھ نہ بھایا تھا اور یہ اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا
ارے بھئ آگئ تو آگئ اس کی کزن ہے اچھا ہے شادی بھی اٹینڈ کر لے گی تمھیں کیا ہے آمنہ منہ بناتے بولی
او بھئ بیٹر ہاف ۔۔۔۔ آپ رہنے دیں بہت لمبی کہانی ہے آپ چلیں اب
سنبھل کر عیان ۔۔۔۔۔چلو اللّٰہ حافظ وسیم عیان کے گلے لگتے ہوۓ بولا
آمنہ نے بھی ماہشان کو خدا حافظ کہا اور چلی گئ گھر میں اک دم خاموشی چھاگئی
ماہشان اور عیان اک ساتھ اوپر جانے لگے۔۔۔
عیان کے ساتھ یوں شادی کے لۓ ہاں کرنے کے بعد آج وہ پہلی دفع اکیلی تھی ورنہ سامنا تو بہت دفع ہوا تھا لیکن کوئ نہ کوئ ان کے ساتھ ہوتا تھا ۔۔۔یوں کسی کے لۓ اک دم جزباتوں کا بدل جانا دل کو الگ ہی لے پر دھڑکا رہا تھا
ماہشان کے ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے پڑھ گۓ تھے ۔۔
ادھر عیان بھی خد کو کوئ بے وقوفی کرنے سے روکے ہوۓ تھا ماہشان کے سامنے آتے ہی اسے ہمیشہ ہی ناجانے کیا ہوجایا کرتا ہے اس بار اس نے سوچ لیا تھا کہ خاموش رہنا ہے

عیان خاموش ۔۔۔۔۔ عیان اللہ خان سیدھے کمرے میں وہ خد کو دل ہی دل میں ہدایتیں دیتا سیدھا کمرے کی طرف بڑھا
ماہشان نے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اک لمبا سانس خارج کیا اسے لگا جیسے اب دوبارہ سے دل واپس دھڑکنے لگا ہے یہ احساس یہ جزبات اسے کھلنے پر مجبور کر رہے تھے ۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی اس کا دل خوش تھا مطمئن تھا کمرے میں آکر وہ سیدھی بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔ نۓ آنے والے کل کے خیالات اس کے اندر ہلچل مچاۓ ہوۓ تھے وہ بے چین تھی لیکن یہ بیچینی مسحورکن تھی اسے اس بیچینی میں مزا آرہا تھا۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ چھت کو تکنے لگی
ادھر عیان نے کمرے میں گھستے ہی خد کو شاباشی دی۔۔۔
شاباش عیان اللہ خان شاباش دو دن ہیں اب کوئ اوٹ پٹانگ حرکت نہیں ۔۔۔ خد کلامی کر کے خد ہی مسکرا دیا کیا ہوگیا ہے اللّٰہ ۔۔۔ توبہ توبہ عیان یہ کہتا وہ بیڈ پر لیٹ گیا
ابھی وہ اپنے خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ اس کا دروازہ بجنے لگا
اس نے گھڑی میں ٹائم دینا اسے حیرت ہوئ کہ اس وقت کون ہوسکتا ہے جیسے ہی دروازہ کھلا سامنے پریشان حال سنبل کھڑی تھی۔۔۔
بال بکھرے روئ آنکھیں چہرے پر ڈھیروں پریشانی لۓ وہ اک دن اندر آگئی
کیا دو منٹ بات ہوسکتی ہے
ہاں بولو عیان اس کا یہ حال دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا
وہ یہاں کیا کر رہی تھی سنبل نے سیدھی بات کی
وہ میرے دوست کی بیوی ہے ۔۔۔ شادی کے دن ہیں اب انکا آنا جانا لگا رہے گا عیان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا
لیکن وہ عباد کی بہن ہے وہ مجھے پہچان لے گی
ہاں میں جانتا ہوں ۔۔۔ عیان نے اپنی ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگاتے ہاتھ باندھتے ہوۓ کہا
تمھیں کیسے پتا ۔۔۔ میں نے تو تمھیں صرف عباد کا نام بتایا تھا ۔۔۔اس کے بارے میں اتنی معلومات تمھیں کیسے پتا۔۔۔۔ سنبل حیرت میں تھی
بس میرے کچھ ذرائع ہیں ان سے پتا چلا کہ خانزادہ انڈسٹریز کے مالک ہی تمھارے شوہر عباد صاحب ہیں ۔۔۔
ابھی کچھ دن پہلے ہی اس سے ملاقات ہوئی تھی وسیم کے گھر۔۔۔عیان اس کی طرف بنا کوئ تاثر دیۓ بول رہا تھا
وہ یہاں تھا اور میں بھی یہیں آگئ یا اللّٰہ ۔۔۔ سنبل ڈرتے ڈرتے بولی
تمھیں اللہ پر بھروسہ ہونا چاہیئے ۔۔ یوں کب تک ڈرتی رہوگی۔۔۔ عیان اسے سمجھانے لگا
نہیں تم اسے نہیں جانتے اس بار وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔۔۔ سنبل عیان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی
یہ تمھارا وہم ہے موت زندگی اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے عباد کے نہیں چلو تم سو جاؤ جا کر ۔۔۔اور پریشان نہیں ہو وہ تمھیں یہاں کبھی نہیں ڈھونڈ پاۓ گا اللّٰہ نے چاہا تو
ہمم۔۔۔۔ مجھے تم پر بھروسہ ہے عیان
انسان سے نہیں اللّٰہ سے امید لگاؤ یہ کہ کر عیان نے دروازہ کھولا اور وہ چلی گئ
اللّٰہ تمھیں ہدایت دے اور تمھاری مشکلات بھی آسان کرے ۔۔۔ آمین
عیان دروازہ بند کرتے دل ہی دل میں سنبل کو دعا دینے لگا
دروازہ بند کر کے وہ سونے کے لۓ لیٹ گیا۔۔۔ لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی نۓ آنے والے کل نے اس کے دل کو بھی بے چین کیا ہوا تھا ۔۔۔
اپنی اپنی سوچوں میں ڈوبے وہ دونوں کب سوگۓ انہیں پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔

*************************

فجر کی ازان سے ماہشان کی آنکھ کھلی ۔۔۔ ہر طرف فزا میں سکون ہی سکون تھا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر تو وہ یوں ہی بیڈ پر بیٹھی رہی یہ وقت ویسے بھی اس کے پسندیدہ وقتوں میں سے اک تھا کسی کام کی جلدی نہیں کوئ شور نہیں بس بندہ اور اس کا رب ۔۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ وہ وضو کرنے چلی گئ آج اس نے بڑے اہتمام سے فجر کی نماز ادا کی ۔۔۔ قرآن پاک کی تلاوت کرنے کے بعد وہ دل ہی دل میں اپنے رب سے باتیں کرنے لگی
یا اللّٰہ میں آپکی نافرمان بندی جس نے اپنی آدھی عمر آپکی نافرمانی میں گزاردی آپکے بندوں کی دل آزاری کی ناجانے کیا کچھ کر بیٹھی لیکن اس سب کے باوجود آپنے مجھ پر اپنا کرم کیا مجھے ہدایت دی میرے دل سے اس تمام گندگی کو دور کردیا ۔۔۔ لیکن آپکے اتنے احسانوں کے باوجود ۔۔ناامیدی کہیں نہ کہیں میرے دل میں آگئ تھی مجھے لگا مجھے اب کبھی کہیں عزت نہیں ملے گی کیونکہ میں خد کو حقیر سمجھنے لگی تھی ۔۔۔ لیکن آپنے مجھ سے میری گندگی دور کردی میرے ہر دکھ ہر غم کو دور کردیا ۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا مجھ سے کوئ محبت نہیں کرتا لیکن مجھے کیا پتا تھا کوئ ہے جو مجھے ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے جو یوں سب کچھ بدل دے گا
مجھے تو وہ الفاظ بھی نہیں مل رہے جس سے میں آپکا شکر ادا کرسکوں جو آپنے میرے لۓ کیا ہے کچھ سال پہلے تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری زندگی یوں بدل جاۓ گی یوں مجھے اس طرح سے سکون مل جاۓ گا میں اس طرح دل سے خوش ہو جاؤں گی بے شک میرا رب ہی تعریف کے لائق ہے ۔۔۔
الحمدللہ رب العالمین
الحمدللہ رب العالمین

دعا کرنے کے بعد وہ ناشتے کی تیاری کرنے لگی آج اسے عیان کے نام کی مہندی لگنے والی تھی ۔۔۔ وہ جلد سے جلد اپنے تمام کام ختم کر لینا چاہتی تھی ۔۔
***********

امی مجھے جانے دیں میں گھر میں رک کر کیا کروں گا عیان فاطمہ بیگم کے کمرے میں بیٹھا ان سے آفس جانے کے لۓ اجازت مانگ رہا تھا
بیٹا حد ہوگئ ہے کل شادی ہے ۔۔ کوئ ایسا بھی کرتا ہے کیا گھر میں رہو اتنے کام ہیں ۔۔۔
تو آپ مجھے اس لۓ روک رہی ہیں کہ گھر میں کام ہیں عیان ہنستے ہوۓ بولا
اتنا سارا اسٹاف ہے آپکے پاس اور آپکو پھر بھی مجھ بچارے سے کام کروانے ہیں جس کی کل شادی ہے
تو کام نہ کرو لیکن گھر میں تو رہو اک دن کی بات ہے عیان اللّٰہ خان ۔۔۔ فاطمہ بیگم اب کی بار سیریس تھیں
فاطمہ بیگم نے اس کا پورا نام لیا تھا مطلب خطرے کی گھنٹی ۔۔۔ عیان فوراً سیدھا ہوا
ارے امی میں کیا کروں گا گھر میں بور ہو جاؤں گا اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔کونسا میں نے مہندی لگانی ہے عیان سیریس ماحول میں بھی مزاق کرنے سے باز نہیں آرہا تھا
بیٹا مجھے ضرورت ہے تمھاری ۔۔۔صحیح ہے جاؤ جو مرضی چاہے کرو ۔۔۔ فاطمہ بیگم اس بار ناراضگی سے بولیں
اتنے میں دروازے پر ناک ہوئی
آجاؤ۔۔۔
اسلام وعلیکم آنٹی ۔۔۔ وسیم اور آمنہ فاطمہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوۓ
وعلیکم السلام بیٹا ۔۔۔اچھا ہوا تم لوگ آگۓ ۔۔۔۔ فاطمہ بیگم چہرے پر ڈھیروں مسکراہٹ سجاۓ بولیں
جی آنٹی اب بتائیں آپ کیا کام ہے ہم دونوں میاں بیوی کل تک یہیں موجود ہیں آپکی خدمت میں وسیم لہجے میں بے شمار اپنا پن لۓ بولا
عیان نے اک ہاتھ اپنے ماتھے پر مارا۔۔۔اور نفی میں سر ہلانے لگا
اسے بھی اس وقت آکر یہی بات کرنی تھی اب تو رکنا ہی پڑے گا ۔۔۔ وہ دل ہی دل میں خد سے گویا ہوا
تمھیں کیا ہوگیا وسیم کو عیان کی یہ حرکت سمجھ نہیں آئ تو حیرت سے پوچھنے لگا
یہ جناب آفس جارہے ہیں فاطمہ بیگم غصے سے عیان کو دیکھتی بولیں
کیا مطلب اس بار حیرت کا جھٹکا آمنہ کو لگا
عیان بھائ شادی آپکی مرضی سے تو ہو رہی ہے نہ آمنہ عیان کو چھیڑنے والے انداز میں بولی اور پھر سب ہنسنے لگے
تم اتنے کاموں میں آنٹی کو یوں اکیلا چھوڑ کر جا رہے تھے چچ چچ چچ چچ وسیم نے آمنہ کے مزاق کو اور آگے بڑھایا
فاطمہ بیگم تو اور زیادہ ناراضگی ظاہر کرنے لگ گئیں۔۔۔
اچھا بھئ نہیں جا رہا ۔۔۔ اگر اجازت ہو تو صرف اک گھنٹے کے لۓ چلا جاؤں عیان ہار ماننے والے انداز میں سب سے پوچھنے لگا
نہیں۔۔۔۔۔ سب نے اک آواز ہوکر بولا اور پھر سب ہنسنے لگے۔۔ عیان سب کے چہرے دیکھنے لگا یہ سب اس کے اپنے تھے اس کی خوشی میں دل سے شریک تھے ۔۔ اسے اللّٰہ نے مخلص لوگوں کا ساتھ عطا کیا تھا بلاشبہ وہ خوش نصیبوں میں سے تھا اور اس بات پر وہ اپنے رب کا شکر گزار تھا
وسیم اور آمنہ کو فاطمہ بیگم کے کمرے میں چھوڑ کر عیان سیدھا سنبل کے کمرے میں گیا
اسنے دروازے سے اندر جاکر فوراً دروازہ بند کیا ۔۔۔
کیا ہوگیا ہے عیان کیا بات ہے ۔۔۔۔ سنبل اسے دیکھ کر کچھ پریشان ہوئی
آمنہ اور وسیم کل تک یہیں رکیں گے تمھیں یہاں سے کہیں جانا ہوگا کیونکہ کمرے میں یوں اس طرح تم کب تک بند رہوگی۔۔۔ عیان سنبل کے لۓ دے فکر مند تھا
تم میری فکر مت کرو میں رہ لوں گی تمھاری شادی ہے تم وہاں دھیان دو۔۔۔۔
ویسے بھی ہم کبھی ملے نہیں ہے اس نے مجھے اور میں نے اسے صرف تصویروں میں دیکھا ہے اگر سامنا ہوا تو شاید نہ پہچانے۔۔۔۔سنبل عیان کو ریلیکس کرنے لگی
تم نے اسے اک جھلک میں پہچانا تھا نہ تو وہ بھی پہچان لے گی ۔۔۔۔ تمھیں اک دن کے لۓ کہیں سیف جگہ پہنچانا ہوگا۔۔۔۔ عیان کچھ سوچتے ہوۓ بولا
نہیں عیان مجھے کہیں نہیں جانا میں یہیں کمفرٹیبل ہوں ۔۔۔
صحیح ہے تمھاری مرضی میں کوشش کروں گا آمنہ اوپر ہی رہے لیکن تم پھر بھی کمرہ لاک ہی رکھنا اور کچھ بھی چاہیے ہو ماریہ کو ہی انٹرکام کرنا۔۔۔ عیان اسے ہدایتیں دیتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
آمنہ جو فاطمہ بیگم کے کمرے سے نکل رہی تھی عیان کو دیکھ کر رک گئی کیسی ہے اب انکی طبیعت ۔۔۔۔
ٹھیک نہیں ہے ریسٹ کر رہی ہیں۔۔۔۔ عیان کمرے کا دروازہ بند کرتے بولا
آپ اپنی دوست سے مل لیں ۔۔۔ اس سے پہلے آمنہ کچھ اور پوچھتی عیان اک دم مسکراتے ہوئے بولا
ہاں وہیں جا رہی ہوں۔۔۔۔ سوچا انکی خیریت پوچھ لوں آمنہ پھر سے سنبل کی طرف متوجہ ہوئی
ارے بھابھی وہ آرام کر رہی ہے اسے ویسے بھی یہاں کسی چیز میں انٹرسٹ نہیں اسے چھوڑیں آپ اوپر چلیں ۔۔۔۔سلام بھی کہ دیجیئے گا میرا۔۔۔ عیان آمنہ کا دھیان سنبل کی طرف سے ہٹانے کے لۓ آمنہ سے مزاق کرنے لگا
تم خود کہ دو۔۔۔۔ آمنہ بھی اسے چھیڑنے لگی۔۔۔
دیکھ لیں بھابھی ۔۔۔ پھر نہ کہیے گا
چلو اوپر خود کرو اب سلام ۔۔۔۔۔۔ آمنہ بھی اب سیریس ہوگئ تھی۔۔۔
نہیں نہیں رہنے دیں ۔۔۔ اب تو سلام بھی کل ہی کریں گے۔۔۔۔ عیان بھی یہ سب بہت انجوائے کر رہا تھا
باتیں کرتے کرتے دونوں سیڑھیاں چڑھنے لگے نہیں جی اب تو آپ سلام کریں گے بس ۔۔۔۔ آمنہ بھی اسے مسلسل چھیڑ رہی تھی
کیا چل رہا ہے مجھے بھی بتاؤ وسیم بھی دونوں کے پاس آگیا
آپ کے دوست اپنی ہونے والی بیوی کو سلام کرنے سے شرما رہے ہیں۔۔۔۔ آمنہ اسے مزید چھیڑنے لگی
جبکہ ہونے والی بیوی کے لفظ سن کر عیان کو اک عجیب سا احساس ہوا
اوفو ۔۔۔ عیان بھائ آپ تو بلش ہی کرنے لگے آمنہ عیان کے گالوں کو دیکھتی زور سے ہنسنے لگی۔
وسیم بھی اب تو اس کا مزاق اڑانے لگا
تم تو چلو یہاں سے عیان وسیم کے گلے میں کس کر ہاتھ ڈالتے وہاں سے چلا گیا اوپر پہنچتے ہی ماہشان کا سامنا عیان سے ہوا وہ جو آمنہ کی آواز سن کر باہر آئ تھی عیان کو دیکھ کر اک دم رک گئ ۔۔۔۔
ہلکے پیلے سادے جوڑے میں سر پر دوپٹہ سلیقے سے لۓ ہوۓ کسی بھی قسم کے میک اور زیور کے بغیر بھی وہ بے تحاشہ خوبصورت لگ رہی ہے تھی عیان اور وسیم کو دیکھتے اس نے اپنا منہ اور زیادہ چھپالیا
اسلام و علیکم
ماہشان نے سب کو سلام کیا
ابھی عیان جواب دے ہی رہا تھا کہ وسیم اور آمنہ کو تو جیسے موقع ہی مل گیا دونوں کو چھیڑنے کا ۔۔۔ دونوں اک آواز ہوکر بولے
وعلیکم السلام
اور زور زور سے ہنسنے لگے ۔۔۔۔
سنبل کے کمرے میں ان کی ہنسی کی آواز جا رہی تھی اسے ماہشان سے حد سے زیادہ حسد محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس سے یہ سب بالکل برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ جب وہ خوش نہیں تھی تو اسے کسی کی بھی خوشی اور جلا رہی تھی ۔۔۔
لیکن فی الحال اسے اندر ہی رہنا تھا وہ عباد کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اس کے زہن کو سکون نہیں تھا۔۔۔ اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ سکون تو بس اللّٰہ کی یاد میں ہے دوسروں کی خوشی میں ہے جو لوگ صرف اپنی خوشی میں سکون ڈھونڈتے ہیں وہ ہمیشہ ہی بے چین رہتے ہیں لیکن شاید یہ سمجھنے میں اسے وقت درکار تھا۔۔۔۔ شدید بے چینی میں وہ کمرے میں ٹہل رہی تھی اور کر بھی کیا سکتی تھی۔۔۔۔۔
ماہشان ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر تو وہ رکی پھر آمنہ کا ہاتھ پکڑتی سیدھی کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ عیان کے سامنے کھڑے ہونا پہلے ہی مشکل تھا اوپر سے ان دونوں کا مزاق اسے اور کنفیوز کر رہا تھا
ارے بھئ رکو تو آمنہ اسے چھیڑ رہی تھی لیکن ماہشان کمرے میں پہنچ کر ہی رکی ۔۔۔۔۔
اوۓ بھئی نیچے وہ بلش کر رہے تھے اوپر تم۔۔۔۔ کچھ زیادہ نہیں شرماتے تم دونوں حد ہے بھئ ۔۔۔۔ آجکل کے دور میں بھی ان جیسے لوگ ہیں میری شادی کے دنوں میں تو کوئ ہو نہ ہو میں اور وسیم تو اک دوسرے کے ساتھ ہی رہتے تھے ۔۔۔۔ سب منع کرتے لیکن ہم ٹہرے ڈھیٹ آمنہ اسے ہنستے ہنستے اپنی شادی کی کہانیاں سنانے لگی ۔۔۔۔ وہ دونوں وہیں صوفے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں
وسیم جیسے ہی عیان کے کمرے میں داخل ہوا اسے شدید حیرت نے گھیر لیا۔۔۔۔۔ بھائ یہ سب کیا ہے
کیا مطلب کمرہ ہے میرا اور کیا ۔۔۔ عیان کو وسیم کی بات سمجھ نہیں آئ تھی اتنے میں فاطمہ بیگم بھی وہاں آگئیں۔۔۔۔
آنٹی یہ کمرہ کہیں سے نہیں لگ رہا کہ یہاں کل کوئ نئ دلہن آنے والی ہے ۔۔۔۔۔ وسیم حیرت میں تھا
بیٹا یہ سنے تو تب نہ میں اکیلی کیا کیا کروں ماہشان میری بہت مدد کردیتی ہے لیکن اب یہ سب تو اس سے نہیں کرواؤں گی نہ فاطمہ بیگم پریشان سی ہوکر بولیں
اک منٹ وسیم باہر گیا اور آمنہ کو ساتھ لیکر آیا۔۔۔۔
یہ دیکھو زرا آمنہ حال دیکھو تمھیں ہی کچھ کرنا ہے اب وسیم کمر پر دونوں ہاتھ رکھے آمنہ کو عیان کا کمرہ دکھانے لگا ۔۔
کمرہ ویسے تو بالکل صاف ستھرا تھا لیکن لڑکوں کے حساب کا تھا کہیں سے بھی شادی شدہ جوڑے کا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
چلیں بھئ آپ دونوں چلیں یہاں سے جو جو کہ رہی ہوں وہ سب جائیں لے کر آئیں اور سب سے پہلے تو یہ بورنگ فرنیچر کو چینج ہونے کی ضرورت ہے آمنہ پورے کمرے کا جائزہ لیتے بولی
فرنیچر اتنا اچھا تو ہے نہ کہیں سے خراب ہے نہ ہی پرانا ۔۔۔۔ عیان اک دم آمنہ کی بات سے اختلاف کرتے بولا
عیان بھائ ۔۔۔ مجھے پہلے کیوں نہیں بلایا اک دن میں کیا کیا کروں گی میں ۔۔۔۔۔ چلیں اک کام کریں فرنیچر رہنے دیں جو جو کہ رہی ہوں وہ سب لے آئیں لیکن جیسا کہوں ویسا ہی ۔۔ آمنہ نے انگلی سے اشارہ کرتے بولا
آنٹی مہندی والی کو بھی بلا لیں تب تک وہ ماہشان کو مہندی لگا دے جب تک میں یہ سب صحیح کرتی ہوں
ماریہ کے ساتھ مل کر سب سے پہلے اس نے پردے اتارے سفید رنگ کے پردے حد ہے عیان بھائ ساتھ ساتھ وہ تبصرہ بھی کر رہی تھی
اس نے اک اک چیز کو بڑے پیار سے سنوارا ۔۔۔۔ عیان اور وسیم نے بھی اسے ہر چیز کا کر دے دی تھی آخر میں پورا دن لگا کر کمرہ سیٹ کرتی وہ ہاتھ جھاڑتی کمرے سے نکل آئ۔۔۔۔
جاؤ دیکھو اب کمرہ کسے کہتے ہیں۔۔۔ عیان کو ہاتھ سے اشارہ کرتی وہ سیدھی ماہشان کے پاس گئ ۔۔۔
ارے واہ لڑکی ۔۔ ماشاءاللہ مہندی تو بہت اچھی لگ رہی ہے زرا جلدی کریں میری دوست اب تھک گئ ہے مہندی لگانے والی کو جلدی کا کہ کر وہ وہیں ماہشان کے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
کہاں تھیں تم کب سے انتظار کر رہی تھی ماہشان اسے ناراضگی سے دیکھتی بولی
ارے بھئ آپکا کمرا سیٹ کر کے آئ ہوں۔۔۔۔ آمنہ نے آپکا پر زور دیتے ہوۓ کہا
ابھی ماہشان نے کچھ ریئکٹ کیا بھی نہیں تھا کہ سنبل اک دم بولی اب پھر سے شرمانے نہ لگ جانا حد ہے بات بات پر شرمانے لگ جاتی ہو ۔۔۔۔۔
ماہشان اک دم مسکرانے لگی
ہاں تو اب اس بات میں کیا شرمانا ۔۔۔۔۔ آمنہ نے برابر میں رکھے سیب اٹھا کر کاٹتے ہوۓ بولا
اچھا بھئ نہیں شرما رہی ۔۔۔۔ ماہشان نے اپنی گول آنکھیں اور بڑی کرتے ہوۓ بولا

************

عیان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اس کا کمرہ واقع بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔۔
سفید پردوں کی جگہ ہلکے گلابی پردے ۔۔۔ ڈریسنگ پر اب صرف اس کا سامان نہیں تھا اس میں ماہشان کا بھی سامان موجود تھا
گلدان میں بھی سارے لال گلاب سجے تھے جن کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا۔
کپڑے نکالنے کے لۓ اسنے الماری کھولی تو وہاں بھی ماہشان کی چیزیں موجود تھیں اس کے کمرے کے ہر اک کونے سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی شادی شدہ جوڑے کا کمرہ ہے اب چاہے دیوار پر لگی پینٹنگ ہو یا کمرے کی فینسی لائٹس آمنہ نے بڑے دل سے چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی محنت کی تھی ۔۔۔۔
عیان کمرہ دیکھتا وہاں سے نکل آیا ۔ ہاں بھئ پسند آیا وسیم جو اسی کے پاس آرہا تھا اسے دیکھتے ہی پوچھنے لگا
ارے بھئ یہ تو میرا کمرہ ہی نہیں لگ رہا عیان اپنے ہاتھ سے سر کے بال مسلتا بولا
ہاں تو اب تو یہ بھابھی کا کمرہ جو ہونے والا ہے وسیم اس کے گلے میں ہاتھ ڈالتا اسے نیچے لے گیا۔۔۔

***********

سب نیچے کھانا کھانے گۓ تھے آمنہ نے پہلے ماہشان کو کھانا کھلا دیا تھا اب ماہشان اپنے کمرے میں اکیلی تھی
دونوں ہاتھوں پیروں پر اس نے بھر کر مہندی لگوائے تھی مہندی اسے بچپن سے ہی بہت پسند تھی ۔۔۔۔سجنا سورنہ مہندی لگانا اسے بچپن سے ہی بہت پسند تھا لیکن اس کے بابا اور بھائ کبھی اسے اس کی یہ خواہشات پوری کرنے نہ دیتے آج اپنے مہندی سے بھرے ہاتھ دیکھ کر اس کی آنکھیں بھیگ گئیں بچپن کی تلخیاں محرومیاں اسے پھر سے ستانے لگیں ۔۔۔۔ اتنے میں آمنہ کھانا کھا کر کمرے میں آگئی ۔۔۔۔
ماہشان کی آنکھوں میں آنسوں دیکھتی وہ پریشان ہوئ ارے بھئ کیا ہوگیا
کچھ نہیں بس ایسے ہی ۔۔۔۔۔ ماہشان اک دم بھیگی آنکھوں سے مسکرادی اب کیا ماضی کا زکر لے کر بیٹھتی ویسے بھی آمنہ سب جانتی ہی تھی
چلو چھوڑو یہ سب بچے کہاں ہیں تمھارے ماہشان نے مسکراتے ہوۓ فزا اور علی کا پوچھا
وہ اپنے بابا کے ساتھ ہیں کھانا کھلا دیا ہے انہی کے ساتھ سوئیں گے
ارے یہیں بلا لو۔۔۔۔
نہ جی نہ یہ جو آپکی مہندی ہے نہ کچھ اور ہی بن جاۓ گی اگر وہ دونوں یہاں آگۓ تو جب تک یہ صحیح سے سوکھ نہ جاۓ انہیں نیچے ہی رہنے دو ۔۔۔۔
۔اور اب تم سو جاؤ کیونکہ کل ظہر میں ہی نکاح ہے ۔۔۔۔ 9 بجے آجاۓ گی تمھیں تیار کرنے والی تو اب اچھے بچوں کی طرح لیٹو اور سوجاؤ ۔۔۔آمنہ بڑے پیار سے اسے لٹاتی بول رہی تھی
آمنہ۔۔۔۔ ماہشان نے اسے پکارا
ہاں بولو ۔۔۔ وہ جو اپنا بستر سیٹ کر رہی تھی اس کی آواز پر مڑی
شکریہ ۔۔۔ماہشان بھیگی آنکھیں لۓ بولی
او بھئ رہنے بھی دو یہ ایموشنل سین ۔۔۔ مجھے اس سب میں بہت مزا آرہا ہے تو تھینک یو وغیرہ کی کوئ ضرورت نہیں ہے اب سوجاؤ میڈم

جاری ہے

شیخ زادی

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین