#از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر
#episode_25 #rozan_e_taqdeer
****************
سنبل طبیعت کا بہانہ کر کے آج اپنے کمرے سے ہی نہیں نکلی تھی اس کے دل میں آگ لگی تھی وہ یوں ماہشان کو عیان کو ہوتا نہیں دیکھ پا رہی تھی سنبل کی لالچ اسے بےجین کۓ ہوۓ تھی
عیان اللّٰہ خان یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا ۔۔۔۔ ایسے تمھارے احسانوں میں زندگی نہیں گزارنی مجھے ۔۔۔
اگر مجھے میرے حصے کی خوشیاں نہیں ملیں گی تو میں انہیں کیسے بھی حاصل کروں گی لیکن میں محرومیوں میں زندگی نہیں گزاروں گی
تمھیں کیا لگتا ہے تم مجھے عباد سے بچا کر مجھ پر احسان کرو گے اور میں تمھارے گھر میں اک کونے میں پڑی رہوں گی نہیں کبھی نہیں مجھے بھی خوش رہنے کا حق ہے اور میں وہ حق لے کر ہی رہوں گی اس کے لۓ چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے یہ کہتے وہ زاروقطار رونے لگی
***************
جی بھابھی کہیے عیان آمنہ کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ بولا
دیکھو عیان جو بات میں تمھیں بتاؤں گی اس کا ہوسکتا ہے تمھیں دکھ ہو لیکن یہ بات جاننا تمھارے لۓ بہت ضروری ہے کیونکہ تم میرے بھائی جیسے ہو اور میں نہیں چاہتی کہ تمھیں کوئ تکلیف پہنچے آمنہ فکرمندی سے بولی
جی بولیں بھابی جو بھی ہے صاف صاف بتائیں ایسے مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے اللّٰہ خیر کرے عیان کے دل میں طرح طرح کے وہم آرہے تھے
صحیح ہے عیان بھائ میں سیدھی بات کرتی ہوں ماہشان کو آپ کب سے جانتے ہیں اور کیا کیا جانتے ہیں آپ ماہشان کے بارے میں آمنہ نے سنجیدگی سے پوچھا
کیوں بھابھی خیریت تو ہے آپ ایسا کیوں پوچھ رہی ہیں عیان حیرت میں تھا کہ اچانک آمنہ ایسے سوال کیوں پوچھ رہی ہے
کیونکہ میں ماہشان کو بچپن سے جانتی ہوں اور جس ماہشان کو میں جانتی تھی وہ تو ایسی نہیں تھی اسی لۓ میں چاہتی ہوں تم مجھے بتاؤ کیا اس نے اپنے بارے میں تمھیں کچھ بتایا ہے یا اس نے تم سب کو دھوکے میں رکھا ہوا ہے
کہنا کہا چاہتی ہیں آپ بھابھی مجھے سمجھ نہیں آرہا آپ کیسے جانتی ہیں انہیں عباد پریشانی سے لیکن نرم لہجے میں بولا
میں اور ماہشان بچپن کے ساتھی ہیں وہ اور میں ساتھ اسکول جایا کرتے تھے اس کے بھائ اور ابو کا رویہ اس کے ساتھ ٹھیک نہیں تھا آۓ دن وہ اسے مارتے پیٹتے تھے جس کی وجہ سے وہ افسردہ رہتی لیکن میری وہ بہت اچھی دوست تھی اسی لۓ میں نے ہمیشہ اس کی مدد کی اور اسے دلاسہ دیا بعض اوقات اس کے چہرے پر مار پیٹ کے نشانات بھی ہوتے کلاس کے باقی بچے اس کا مزاق اڑاتے اور وہ بچاری بہت افسردہ ہوجاتی ۔۔۔
میں اور میری امی اکثر اس کی دلجوئی کرتے اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے پھر وقت گزرتا گیا اور اک دن ماہشان ہمارے گھر آئ تب شاید وہ 16 سال کی تھی اس نے اپنا گھر چھوڑ دیا تھا کیونکہ اس کے لۓ اب اپنے ابو اور بھائ کے ساتھ رہنا بہت مشکل تھا
عباد بھائ ان دنوں امریکہ پڑھنے گۓ ہوۓ تھے تو ہم نے کچھ دن اسے رہنے دیا لیکن جب عباد بھائ کے آنے کا ہوا تو ہم نے اسے اپنے گھر واپس جانے کو کہا اور اس کے بابا اور بھائ سے بھی بات کی ۔۔۔
لیکن اس کے بابا اور بھائ بہت سخت دل تھے شاید وہ اس سے چھٹکارہ ہی چاہتے تھے تبھی اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھا ہوا تھا
ان دونوں نے اسے واپس بلانے سے صاف انکار کردیا
ماہشان کا تو رو رو کر برا ہال تھا ہم نے اسے بہت سہارا دیا بہت سنبھالا ۔۔۔ وہ اکثر راتوں کو اٹھ کر روتی تھی گھر سے آ تو گئ تھی لیکن اسے اپنے گھر والوں کی بہت یاد آتی تھی امی نے اسے ہمارے گھر ہی رہنے دیا
امی نے مجھ میں اور اس میں کبھی کوئ فرق نہ رکھا جب کالج میں ایڈمیشن کی باری آئ تو میں نے اسے اپنے ساتھ ایڈمیشن کا بہت کہا لیکن وہ نہ مانی اور اس نے کہیں اور ایڈمیشن لے لیا وہاں اس کی ناجانے کیسی لڑکیوں سے دوستی ہوگئ ۔۔۔اس کا رویہ اب مجھ سے تو ٹھیک تھا لیکن امی سے وہ بد ظن ہوگئ آۓ دن کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ۔۔۔۔
اور اک دن وہ ہوا جس کا ہمیں شاید کوئ اندازہ نہیں تھا ماہشان عباد بھائ کو کہیں بے ہوش ملی ڈاکٹر کو بلایا تو پتا چلا ڈرگ اوور ڈوز کی وجہ سے وہ بیہوش ہوگئ تھی پھر تو امی نے اک دن نہیں لگایا اسے گھر سے نکالنے میں عباد بھائ نے بہت چاہا کے وہ نشہ چھڑانے کے ادارے چلی جاۓ پر وہ نہیں مانی ۔۔۔۔
پھر اس کے بعد اکثر وہ مجھے اوباش لڑکے لڑکیوں کے ساتھ دکھتی کبھی بائیک کبھی کار اللّٰہ جانے اتنا پیسہ اس کے پاس کہاں سے آیا۔۔۔۔
پھر میری شادی وسیم سے ہوگئ اور میں یہاں آگئ اس کے بعد آج میری اس سے ملاقات ہوئی مجھے اسے اس طرح دیکھ کر خوشی تو بہت ہوئ لیکن یہ وہ لڑکی نہیں ہے عیان بھائ آپ اک دفع پتہ کروالیں آمنہ اس بار سمجھانے والے انداز میں بولی اس کے دل میں عیان کے لۓ فکر صاف ظاہر تھی
بھابھی اک بات کہوں عیان خاموشی سے ان کی ساری بات سنتا رہا تھا
اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا سیدھا کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا
آپ نے ہی کہا کہ اب وہ ویسی بالکل ہی نہیں لگ رہیں جیسی آپ انہیں جانتی ہیں ۔۔۔۔ میرے لۓ تو یہی کافی ہے ماضی کس کا نہیں ہوتا ہر اک کا ماضی ہوتا ہے ہر اک نے کچھ نا کچھ اپنے بچپنے میں نادانی میں یا کہ لیں جوانی کے جوش میں ایسا کیا ہوتا ہے جس کو وہ چاہتا ہے کبھی کوئ نہ جانے ۔۔۔۔
بس فرق یہ ہوتا ہے کسی کے ماضی میں اندھیرا زیادہ ہوتا ہے کسی کے کم لیکن ماضی سب کا ہوتا ہے لیکن ماضی کا انجام کیسا ہو یہ بات ضروری ہے
آپ نے اپنے ماضی سے کچھ سیکھ کر خد کو بدلا کہ نہیں یہ اصل بات ہے اگر آپ اپنے ماضی پر اتراتے ہیں یا فخر محسوس کرتے ہیں تو اندھیرے آپ کا مقدر بن جاتے ہیں لیکن وہیں جب آپ دل سے توبہ کرکے ماضی کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور کبھی نہ مڑنے کی قسم کھا لیتے ہیں تو زندگی آپ کو کھلے ہاتھوں سے روشنی میں گلے لگاتی ہے
اور ماہشان نے خد کو بدلا ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں میں نہیں جانتا انہوں نے کیا کیا اور کیا نہیں
اور ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے مجھے کچھ بتانا نہیں چاہا انہوں نے بہت بار یہ بات بتانی چاہی لیکن میں ہی نہیں چاہتا تھا یہ سب جاننا ابھی بھی نہیں چاہتا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ ماضی ان کا کیسا بھی ہو لیکن ہال انکا روشن ہے اور مستقبل کو لیکر میں پر امید ہوں
تم سے کس نے کہا کہ وہ بدل گئ ہے اب وہ سب نہیں کرتی یا کرے گی آمنہ ابھی تک الجھن میں تھی
میرے دل نے بھابھی۔۔۔۔ میرے دل نے گواہی دی ہے انکی اور دل سے بڑھ کر اور کس کی گواہی ہوتی ہے کیونکہ مومن کے دل میں تو اللّٰہ رہتا ہے۔۔۔عیان بہت ادب سے آمنہ سے بات کر رہا تھا چہرے پر کہیں بے زاری یا غصہ نہیں تھا
تمھیں تو وہ راستے پر ملی تھی ناجانے کہاں سے کس کے پاس سے آرہی تھی کبھی سوچا تم نے ۔۔۔۔ آمنہ کی الجھن اب بڑھتی جا رہی تھی
بھابھی وہ سب میں جانتا ہوں آپ یقین کریں وہ اب بدل گئیں ہیں۔۔۔ کسی کے ماضی سے اس کی آج پہچان کرنا تو بھابھی اس بندے پر ظلم ہے آپ پلیز ایسا نہ کریں انہیں اک موقع دیں آپ کی موجودگی انہیں اپنوں کا احساس دے گی میری خاطر انکے ماضی کو بھلا دیں
عیان اس بار بہت مان سے بولا
چلو ٹھیک ہے تمھارے کہنے پر اک موقع دیتی ہوں میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں عیان اسے آج ایسے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ملی لیکن بس مجھے تمھارے لۓ خوف تھا آمنہ ہلکی ہلکی نم آنکھیں لۓ بولی
چلیں بھابھی کوئ بات نہیں آپ کا شکریہ اس اپنے پن کے لۓ چلیں آپکی دوست آپکی راہ دہکھ رہی ہوگی عیان نے مسکرا کر کہا
ویسے ماننا پڑے گا ۔۔۔۔ ہے بہت خوش نصیب ماہشان جو تم جیسا شوہر مل رہا ہے ۔۔۔ جو ابھی سے اسے اتنا پروٹیکٹ کر رہا ہے
ماشاءاللہ کہیں بھابھی ماشاءاللہ اس بار عیان نے شرارت سے کہا
چلو میں نیچے جاؤں علی اور فزا نے اللّٰہ جانے کیا کچھ کر ڈالا ہوگا ابھی تک وہ ہنستے ہوۓ کہتی اسٹڈی سے باہر چلی گئ اور عیان بھی اپنے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا
جارہی ہے۔۔۔
شیخ زادی