MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

روزنِ تقدیر قسط 27

#از_قلم_شیخزادی

#روزن_تقدیر

#rozan_e_taqdeer

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے ہی گھر میں ہر طرف شور شرابہ مچا ہوا تھا ۔۔۔نکاح گھر کے پاس مسجد عمر بن خطاب میں ہی تھا اور پھر سارے مہمانوں نے گھر ہی آنا تھا پورے لاونج میں سب مہمانوں کے بیٹھنے کے انتظامات کۓ ہوۓ تھے ۔۔۔

آمنہ سنبل کے دروازے کی طرف اک نظر ڈالتی فاطمہ بیگم سے اس کے بارے میں پوچھنے لگی
آنٹی کیا آج بھی نہیں آئیں گی یہ باہر۔۔۔ آج تو عیان بھائ کی شادی ہے اس طرح کمرے میں بند رہ کر تو وہ اور بیمار پڑھ جائیں گی آمنہ کام کرتے کرتے فاطمہ بیگم سے مخاطب تھی ۔۔۔۔

بیٹا اسے رہنے دو یہ اس کی مرضی ہے آنا چاہے تو ٹھیک ہے ورنہ جیسے چاہے ویسے رہے فاطمہ بیگم بڑے پیار سے بولیں
اچھا یہ سب چھوڑو یہ بتاؤ ماہشان تیار ہے ۔۔
جی آنٹی وہ تقریباً تیار ہے بس تھوڑی دیر اور لگے گی میں دیکھ کر آتی ہوں ۔۔۔
آمنہ سیڑھیاں چڑھتی سیدھی اوپر جا رہی تھی ۔۔۔ مہرون کلر کی میکسی میں ہلکی جیولری پہنے وہ بھی بہت پیاری لگ رہی تھی بالوں کو اس نے اسٹریٹ رکھا تھا جس پر دوپٹہ بھی پہنا ہوا تھا ماتھے پر گولڈن چھوٹا سا ٹیکا لگاۓ آرام سے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی
وسیم جو عیان کے کمرے کے باہر کھڑا تھا آمنہ کو دیکھتے ہی اک دم اس کے پاس آیا
کیا بات ہے محترمہ ۔۔۔۔ آمنہ کو بڑے پیار سے دیکھتے وہ اس کی تعریف کے لۓ لفظ ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ اک دم عیان آگیا
اسلام وعلیکم بھابھی۔۔۔۔ ساری تیاریاں ہوگئیں ماہشان کے کمرے کی طرف نظریں ٹکاۓ وہ آمنہ سے مخاطب تھا
او بھائ بات ہم سے کر رہا ہے دیکھ وہاں رہا ہے اوپر سے ہم جو آپس میں کچھ ضروری بات کر رہے تھے تم اس میں بھی بیچ میں آگۓ ۔۔۔۔ جن تیاریوں کی تمھیں فکر ہے نہ جاؤ اندر جاکر دیکھ لو وسیم جو آمنہ سے تھوڑی دل لگی کے موڈ میں تھا عیان کے آنے سے چڑ گیا
کیا ہوگیا خیریت تو ہے ۔۔۔۔ عیان نا سمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا
عیان بھائ آپ چھوڑیں یہ سب ۔۔۔۔ ہاں ساری تیاریاں مکمل ہیں میں بس اب ماہشان کو ہی دیکھنے جا رہی تھی آپ نیچے چلیں میں ماہشان کو لیکر آتی ہوں
نہیں نہیں اک کام کرو اس کو ہی بھیج دو ویسے بھی صبر کہاں ہو رہا ہے اس سے وسیم نے عیان کو چھیڑتے ہوۓ آمنہ سے کہا
اب اتنا کہ رہے ہو تو صحیح ہے ویسے بھی بزرگوں کی بات تو ماننی ہی چاہیے عیان بھی جوابا وسیم کو چھیڑنے لگا
بزرگ۔۔۔۔ وسیم نے آبرو اٹھا کر پوچھا
چلو بھئ نیچے چلو تم تو…..
اب مانو ساری باتیں۔۔۔ وسیم عیان کے گلے میں ہاتھ ڈالتا اسے نیچے لے گیا۔۔۔
عیان صبح سے اپنے کمرے میں تھا ۔۔۔ فاطمہ بیگم نے اسے صاف کہا تھا کہ وہ آج سکون سے اپنے کمرے میں رہے گا نہ کوئ آفس ورک نہ ہی کوئ گھر کا کام ۔۔۔
سارے انتظامات وسیم نے دیکھے تھے اور بلاشبہ بہت اچھے سے اس نے ہر اک چیز کو مینج کیا تھا ۔۔پورا گھر خوبصورت انداز میں سجا ہوا تھا۔۔۔ عیان نے ستائش سے گھر کی ڈیکوریشن کو دیکھتے ہوۓ وسیم کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔۔
عیان سفید کلر کے کرتے پاجامے پر کریم کلر کی شیروانی پہنے ۔۔۔ بالوں کو جیل سے سلیقے سے سیٹ کۓ بہت ہی ہینڈ سم لگ رہا تھا
عیان کے چہرے پر چھائ خوشی کو دیکھ کر کوئ بھی اس کے دل کی کیفیات کا اندازہ لگا سکتا تھا ۔۔۔۔

ماشاءاللہ ۔۔۔۔ اللّٰہ ہر اچھی اور بری نظر سے میرے بچے کو محفوظ رکھے ۔۔۔ یا اللّٰہ آپکا شکریہ کہ آپ نے مجھے یہ دن دکھایا۔۔۔۔ فاطمہ بیگم عیان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں
اللّہ میری پیاری امی کو بھی ہمیشہ ایسے ہنستا مسکراتا رکھے آمین عیان نے فاطمہ بیگم کے گلے لگتے ہوۓ بولا۔
چلو میں مہمانوں کو دیکھوں اک آنسو خوشی کا فاطمہ بیگم کی آنکھ سے چھلک گیا جس کو وہ صاف کرتی یہ کہتی وہاں سے چلی گئیں
آمنہ ماہشان کے کمرے میں داخل ہوئ تو اسے دیکھتی ہی رہ گئ ماشاءاللہ ماشاءاللہ کیا بات ہے
کھلتے لالل رنگ کا لہنگا جس پر سفید نگ بڑے ہی نفیس
انداز میں لگے ہوۓ تھے اس پر اس نے ہیوی جیولری لی ہوئ تھی ماتھے پر ٹیکا ناک میں خوبصورت نتھ ۔۔۔ہاتھ چوڑیوں سے بھرے ہوۓ سر سے پیر تک وہ بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی
آئینہ میں خود کو اک بار نظر اٹھا کر دیکھا اور اک دم پلکیں جھپکالیں۔۔۔ آج تو اس کا دل کسی اور ہی لہ پر دھڑک رہا تھا۔۔۔۔ نئ زندگی نۓ اوراق اب اسے ان اوراق کو اچھی یادوں سے بھرنا تھا جس میں پشیمانی نہ ہو ۔۔۔ وہ پر امید چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر آمنہ کے ساتھ کمرے سے باہر آگئ ۔۔۔
آہستہ آہستہ سیڑھیاں اتر رہی تھی اس کا دل بھی اسی طرح دھڑک رہا تھا

ادھر عیان کی نظر ماہشان پر پڑی تو اس کے دل نے بھی ایک بیٹ مس کی۔۔۔۔ ماشاءاللہ وہ زیر لب بولا
نظریں ہٹالے بھائ وسیم عیان کے کان میں آکر اسے چھیڑتے ہوۓ بولا
بھائ آج دیکھنے دے ۔۔۔۔عیان بھی ہنستے ہوۓ بولا
ابھی وہ دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ دروازے سے کالے سوٹ میں کوئ گھر میں داخل ہوا
عباد بھائ آمنہ جو ماہشان کو سیڑھیوں سے لیکر نیچے اتر رہی تھی عباد کو گھر میں گھستا دیکھ اک دم زور سے بولی

آمنہ کی آواز سن کر جہاں ماہشان کے چہرے کا رنگ اڑا وہیں عیان نے بھی اک دم مڑ کر پیچھے دیکھا اسے حیرت تھی کہ عباد تو امریکہ گیا ہوا تھا تو یہ یہاں کیسے۔۔۔۔۔ ماہشان پر اک نظر ڈال کر وہ سیدھا وسیم کے ساتھ عباد کے پاس پہنچا
ارے سالے صاحب اسلام وعلیکم وسیم بڑے پیار سے عباد سے ملا
اسلام وعلیکم عیان نے بھی بڑے اپنے پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا
مبارک ہو عیان صاحب شادی کی بہت بہت مبارک باد عباد بھی عیان کے گلے لگتے بڑے دوستانہ انداز میں اسے مبارکباد دینے لگا
آجائیں اندر ۔۔۔ عیان نے عباد کو اندر بلایا
تم تو امریکہ چلے گۓ تھے نہ عباد ۔۔۔۔ وسیم حیرت سے عباد سے پوچھنے لگا
ہاں جانا تو تھا لیکن کوئ کام آگیا تھا اس لۓ پہلے مصر گیا تھا اک میٹنگ تھی بس کل رات آیا تھا تمھارے گھر گیا تو پتا چلا تم لوگ یہاں ہو تو یہیں آگیا بس تھوڑی دیر میں نکلوں گا امریکہ کے لۓ عباد گھڑی کو دیکھتے ہوۓ بولا
عباد بھائ آمنہ عباد سے آکر ملی بہت خوشی ہوئی آپکو دیکھ کر آپ امریکہ نہیں گۓ آمنہ نے بھی وسیم کا سوال دھرایا
جانا تو تھا لیکن اپنی بہن سے ملے بنا کیسے چلا جاتا اسی لۓ تم سے ملنے آگیا بس اب چلتا ہوں عباد آمنہ سے ملکر جانے کی تیاری کرنے لگا
ارے رکیں تو مجھے آپ کو کسی سے ملوانا ہے آمنہ عباد کو ماہشان سے ملوانا چاہتی تھی
یہ سنتے ہی عیان کے چہرے پر پریشانی امڈ آئ
اتنے میں علی اور فزا بھی آگے ماموں ۔۔۔۔ کیا بات ہے آپ یہاں دونوں بچے اس کی گود میں چڑھ گۓ
بارہ باری اس نے دونوں کو پیار کیا
عیان بار بار کبھی ماہشان کی طرف مڑ کر دیکھتا کبھی عباد کو دیکھتا اسے آمنہ کو کچھ بھی کہنے سے روکنا تھا لیکن وہ ایسا کیا کرے کہ کسی کو شک بھی نہ ہو اور آمنہ ماہشان کا تزکرہ بھی نہ کرے
ادھر ماہشان کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عباد یہاں کیسے آگیا ۔۔۔ آمنہ سے ملاقات کے بعد اسے اک بار بھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ عباد کی بہن ہے اور آمنہ کے ذریعے عباد کو جلد ہی اس کا پتا چل جاۓ گا۔۔۔۔ وہ بس خوش تھی اک عرصے کے بعد خوشی نے اس کے دل میں قدم رکھا تھا وہ اسی کو محسوس کرنا چاہتی تھی شاید اسی لۓ اس نے غم کی باتوں کو دل و دماغ سے دور رکھا تھا۔۔۔۔
ہاں آمنہ کیا کہ رہی تھیں ۔۔۔ عباد نے آمنہ سے باتوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑا عیان ابھی کچھ بولنے ہی والا تھا کہ آمنہ بول پڑی
آپ کو کسی سے ملوانا ہے دیکھنا آپ حیران رہ جائیں گے آمنہ بہت زیادہ خوش تھی اسے لگا عباد ماہشان کو دیکھ کر خوش ہوگا کیونکہ وہ عباد کو ماہشان کا خیرخواہ سمجھتی تھی
نہیں ۔۔۔ آج نہیں تمھارے گھر جا کر یہاں آیا ہوں اسی لۓ کافی دیر لگ گئ ورنہ بیٹھ کر بات کرنے کا ٹائم ہوتا ابھی میری فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے میں چلتا ہوں
فاطمہ بیگم جن کو عیان ہر معاملے سے پہلے ہی واقف کر چکا تھا موقع کی سنگینی کو دیکھتے ہوۓ آمنہ کو بلانے لگیں
آمنہ بیٹا ادھر آنا فاطمہ بیگم نے اسے آواز دے کر بلایا ۔۔۔۔
آئ آنٹی ۔۔۔۔
عیان نے سکون کا سانس لیا اور اک نظر تشکر بھری فاطمہ بیگم پر ڈالی
عباد بھی آمنہ سے ملکر اس کی ایک بھی سنے بغیر وہاں سے چلا گیا
تھوڑی ہی دیر میں نکاح ہے اٹینڈ کر لیتے عیان نے دوستانہ انداز میں عباد کو روکتے ہوۓ کہا
نہیں آج نہیں جب واپسی ہوگی تو انشاللہ پھر سکون سے آؤں گا عباد مسکراتا ہوا یہ کہتا گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا
سکون۔۔۔۔ عیان تنظیہ مسکرایا
سکون تو میں تمھیں اب کسی صورت نہیں لینے دوں گا عیان دل ہی دل میں عباد سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔
عباد بھائ آۓ تھے آمنہ ماہشان کے پاس بیٹھتی اسے بتانے لگی
پھر۔۔۔۔ ماہشان نے آہستہ سے لیکن ڈرتے ڈرتے پوچھا
میں تمھارا بتانا چاہ رہی تھی لیکن انہیں دیر ہورہی تھی اسی لۓ چلے گۓ
عباد کے جانے کا سن کر ماہشان کی جان میں جان آئ۔۔۔۔۔ اسنے بھی سکون کا سانس لیا

جاری ہے ۔۔۔

Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین