کمرے میں آکر وہ نروس سی بیڈ پر بیٹھ گئ اسے کسی کے احسان تلے نہیں رہنا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے کیا کرے
اک راستہ بس وہ اک راستہ چاہتی تھی جانتی تھی اس کا رب اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا وہی تو ہے جو ہر وقت اپنے بندوں کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازتا رہتا ہے۔۔۔
اسے اس رب کریم پر پورا بھروسہ تھا لیکن انسان ٹھرا جلد باز اس سے صبر نہیں ہوتا اور یہی کیفیت اس وقت ماہشان کی تھی ۔۔۔
اس وقت تو یہی بڑی بات تھی کہ وہ اس جگہ سے آزاد ہو گئ تھی اور دیکھو میں کتنی نا شکری ہوں جو مل گیا اسے بھول گئ اور آنے والا وقت جس کا مجھے کچھ نہیں پتا اس پر دعائیں کر رہی ہوں۔۔۔
صحیح کہا ہے جب بندے کو مشکل پڑھتی ہے تو دعائیں کر نے لگ جاتا ہے اور وہیں جب اس سے تکلیف دور کردی جاتی ہے تو اتراتا ہے ۔۔۔ خود سے کہتی وہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئ
اسنے فریش ہوتے ہی شکرانے کے نفل پڑھنے کیلئے نیت باندھی ۔
عیان جو اس سے اس کے بارے میں پوچھنے آرہا تھا دروازے کی جھلللی سے اسے دیکھ کر اک بار پھر ٹرانس سی کیفیت میں مبتلا ہو گیا
وہ اس پرنور چہرے کو دیکھ رہا تھا کتنی معصوم تھی وہ اور کس مشکل میں ناجانے پھنسی ہوئی تھی ۔۔
اک دم اسنے اپنی نظریں جھکا لیں اور استغفار پڑھنے لگا ۔۔۔
دروازے پر ہلکی ناک کر کے اسنے اجازت مانگی وہ جو دعا مانگ رہی تھی اک دم جھٹکے سے دوپٹہ اپنے منہ پر لپیٹ گئ
نگاہ کی حفاظت تو عیان بھی کرتا تھا لیکن یہ لڑکی تو جیسے بالکل پاک تھی۔
یہ لوگ کون ہیں اور انہوں نے آپ کو قید کیوں کیا ہوا تھا عیان نے بنا کوئ اور بات کہے سیدھی مدععے کی بات کی ۔۔۔باتوں کو طول تو وہ ویسے بھی نہیں دیتا تھا لہجہ بالکل سپاٹ تھا جبکہ
نظریں اپنے ہاتھوں پر رکھے ہوئے تھا۔۔اور آپ نے جھوٹ کیوں کہا کہ آپ ہاسٹل میں رہتیں ہیں اگر آپ پہلے ہی ہمیں سچ بتا دیتیں تو شاید یہ سب نہ ہوتا۔۔۔
خیر اب بھی آپ چاہیں تو بتا سکتی ہیں ۔۔۔
باقی میں آپکو پاکستان بھجوانے کی کوشش کرتا ہوں …اک سسکی ماہشان کے منہ سے نکلی اور وہ بےساختہ رونے لگی ۔۔۔۔
عیان اسے حیرت سے دیکھنے لگا اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کرے ۔۔۔۔ اچھا آپ روئیں تو نہیں ۔۔۔
میں پاکستان نہیں جاسکتی وہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔
وہ تو یہاں بھی آپکے پیچھے ہیں۔۔۔۔
"”””””پیچھے تو میرے میرے گناہ ہیں "”””” ان لوگوں سے تو موت بھی جان چھڑا دیگی گناہوں کا کیا کروں یہ کہ کر وہ زاروقطار رونے لگی ۔۔۔
عیان کچھ پل کے لئے حیران ہوا کہ کوئ اس طرح بھی معصوم ہو سکتا ہے۔۔۔ گناہ اور دل دکھا کہ فخر کرنے والے تو اس نے بہت دیکھے تھے لیکن یوں اپنی خطاؤں پہ نادم کسی کو پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔
آپ ایسے نہ کریں اس گھر کو اپنا گھر سمجھیں عیان اس کے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولا جو کہ کانپ رہے تھے ناجانے کیوں وہ اس لڑکی کے غم دور کرنا چاہتا تھا اسے سہارا دینا چاہتا تھا اس کو خوش دیکھنا چاہتا تھا اور رونا بند کریں جب آپ کو ٹھیک لگے مجھے بتا دیجیے گا
لیکن اک بات دھیان میں رکھیے گا امی کو آپکے بارے میں کچھ نہ پتا چلے وہ دل کی مریضہ ہیں میں انہیں کوئ پریشانی نہیں دینا چاہتا ہوں ۔۔۔
آنسوں سے بھرا چہرا ہاتھوں میں لئے اس نے سر ہاں میں ہلایا
عیان وہاں سے چلا گیا اور وہ پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر اپنے رب کا شکر ادا کرنے لگ گئی ۔۔۔
جاری ہے
شیخ زادی