صبح کا وقت تھا وہ حسب معمول نماز پڑھ کر امی کے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔
امی کے کمرے سے نکل کر اب وہ اپنے روم کی جانب بڑھا ۔۔۔
اس کے اندر سکون اتر رہا تھا یہی وہ وقت ہوا کرتا تھا جب وہ اپنی تمام تر پریشانیاں بھول جایا کرتا تھا ۔۔۔
باہر کھڑی وہ لڑکی شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
مجھے یہاں سے بھیج دیں ۔۔۔ ماہشان نے چھپے چہرے اور جھکی آنکھیں لیے کہا۔۔۔
لیکن کیوں عیان کو حیرت ہوئ
وہ لوگ مجھے یہاں بھی ڈھونڈ لیں گے
میں نہیں چاہتی کہ آپ لوگوں کو میری وجہ سے تکلیف پہنچے ۔۔
وہ وہیں کھڑا اسے سنتا رہا کہا تو بس اتنا ہی
"””میں یہی چاہتا ہوں وہ جو کوئ بھی ہے اک بار میرے سامنے آئے”””””
وہ اسے دیکھتی رہ گئ عیان یہ کہ کر چلا گیا
ماہشان کو سمجھ نہیں آیا کہ جو اسنے سنا وہ کیا تھا وہ کیوں چاہتا ہے اس انسان سے ملنا ۔۔۔
شدید پریشانی کے عالم میں وہ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔
دن گزرتے رہے عیان نے اسے اپنے گھر سے جانے پر صاف منع کردیا تھا ماہشان کو بھی سر چھپانے کے لئے کوئ نہ کوئ جگہ تو چاہیے ہی تھی تو وہ بھی مجبوراً وہیں رک گئ
اس دوران فاطمہ بیگم بہت خوش رہنے لگیں ۔۔
ماہشان اک با اخلاق اور خیال رکھنے والی لڑکی تھی جو کوئ اس سے اک بار مل لے اس کے دل کو جیت لیتی تھی
فاطمہ بیگم تو اس کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتیں اسے اپنی زندگی کے قصے سناتیں ۔۔ عیان بھی اپنی ماں کو دیکھ کر بہت خوش تھا۔۔۔
عیان اپنی اسٹڈی میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ فاطمہ بیگم اسکے کمرے میں آئیں اور ماہشان کے متعلق پوچھنے لگیں ۔۔کہ وہ کون ہے کہاں سے آئ ہے
جب سے وہ آئی تھی انھوں نے اک بار بھی اس طرح نہ پوچھا تھا وہ حیران ہوا
امی کیا ہوا ایسے کیوں پوچھ رہی ہیں
بیٹا میں چاہتی ہوں وہ ھمیشہ یہیں رہے
لیکن امی اس کے گھر والے ہیں پاکستان میں وہ کبھی نہ کبھی تو جائیگی ناں،،،،،،،،،
تبھی تو بیٹآ میں چاہتی ہوں تم اس سے نکاح کرلو۔۔۔۔
کچھ دیر کے لئے کمرے میں خاموشی چھا گئی
عیان نے نرمی سے اپنی ماں کے گلے میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔اور کہنے لگا۔۔
میری پیاری امی میں جانتا ہوں آپ میرے لئے فکرمند رہتیں ہیں لیکن امی آپ ایسا نہ کیا کریں اس لڑکی کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے کون ہے کہاں سے آئ ہے
کن مشکلات میں گھری ہے کیوں اتنی ڈری ڈری رہتی ہے نظروں میں اک دم ماہشان کے کانپتے ہاتھ آے۔
۔۔ اس کی خاموشی کی وجہ کیا ہے نظروں میں چپ چاپ بیٹھی ماہشان کی تصویر آئ۔۔
اس کی آنکھیں کس درد کو بیان کرتی ہیں ۔ جب وہ اپنی پلکیں اٹھاتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے ناجانے کتنا تھک گئ ہو اک کے بعد اک اس کی تصویریں اسکی نگاہوں میں آرہی تھیں حالانکہ ایسا بہت ہی کم ہوا تھا کہ عیان نےاس کا چہرہ دیکھا ہو ۔۔ اس کی اس زہنی تھکان کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔ کیوں وہ اکثر نمازوں میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی ہے۔۔۔
وہ ناجانے کس دھیان میں اپنی امی کے سامنے اس معصوم لڑکی پر تبصرہ کر رہا تھا اسے خد نہیں معلوم تھا وہ کیا کہے جا رہا ہے
اور ہم تو یہ بھی نہیں جانتے۔ ۔۔کہتے کہتے وہ اک دم رک گیا ۔۔ اس کی آنکھیں جھک گئں لب اک دم اسنے بھنچ لیے مانو جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔۔۔
فاطمہ بیگم اسکی ساری باتیں مسکراتے ہوئے سن رہیں تھیں ۔۔۔
عیان میرے ہر اک سوال کا جواب آپ نے دیدیا ہے لیکن پھر بھی میں چاہوں گی آپ کل صبح تک مجھے سوچ کر جواب دیں۔۔۔
اس بار زرا دل سے سوچئے گا اس کے دل پر اپنا مامتا بھرا ہاتھ رکھ کر کہ کر چلی گئیں ۔۔۔۔
وہ وہیں بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔۔ اسے کیا ہو رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آیا ایسا تو سنبل کے لئے بھی کبھی نہ سوچا تھا ۔۔۔
جاری ہے
شیخ زادی