MOJ E SUKHAN

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی

غزل

روز وحشت ہے مرے شہر میں ویرانی کی
اب کوئی بات نہیں بات پریشانی کی

میرے دریا کبھی دریا بھی ہوا کرتے تھے
اب بھی آواز سی آتی ہے مجھے پانی کی

آئنہ خانے کے باہر وہ مجھے پوچھتے ہیں
آئنہ خانے میں کیا بات تھی حیرانی کی

اب غزالاں سے کہو چھپ کے کہیں بیٹھ رہیں
آمد آمد ہے کسی غول بیابانی کی

ہم کھلے گھر کے مکینوں کی یہی عادت ہے
ہم نہ دربان ہوئے اور نہ دربانی کی

یاد کر لینا بہتر کی کہانی باقیؔ
جنگ چھڑ جائے کسی وقت اگر پانی کی

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم