MOJ E SUKHAN

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے
شعلوں سے بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

کمرہ کسی مانوس سی خوشبو سے بسا ہے
جیسے کوئی اٹھ کر ابھی بستر سے گیا ہے

یہ بات الگ ہے کہ میں جیتا ہوں ابھی تک
ہونے کو تو سو بار مرا قتل ہوا ہے

پھولوں نے چرا لی ہیں مجھے دیکھ کے آنکھیں
کانٹوں نے بڑی دور سے پہچان لیا ہے

اس سمت ابھی خون کے پیاسے ہیں ہزاروں
اس سمت بس اک قطرۂ خوں اور بچا ہے

روداد چراغاں تو بہت خوب ہے لیکن
کیا جانیے کس کس کا لہو ان میں جلا ہے

اس رنگ تغزل پہ علیؔ چھاپ ہے میری
یہ ذوق سخن مجھ کو وراثت میں ملا ہے

علی احمد جلیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم