MOJ E SUKHAN

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں
وہی جو جان سے پیارے ہیں رشتے مار دیتے ہیں

کبھی برسوں گزرنے پر کہیں بھی کچھ نہیں ہوتا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمحے مار دیتے ہیں

کبھی منزل پہ جانے کے نشاں تک بھی نہیں ملتے
جو رستوں میں بھٹک جائیں تو رستے مار دیتے ہیں

کہانی ختم ہوتی ہے کبھی انجام سے پہلے
ادھورے نا مکمل سے یہ قصے مار دیتے ہیں

ہزاروں وار دنیا کے سہے جاتے ہیں ہنس ہنس کے
مگر اپنوں کے طعنے اور شکوے مار دیتے ہیں

مجھے اکثر یہ لگتا ہے کہ جیسے ہوں نہیں ہوں میں
مجھے ہونے نہ ہونے کے یہ خدشے مار دیتے ہیں

کبھی مرنے سے پہلے بھی بشر کو مرنا پڑتا ہے
یہاں جینے کے ملتے ہیں جو صدمے مار دیتے ہیں

بہت احسان جتانے سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے
بہت ایثار و قربانی کے جذبے مار دیتے ہیں

کبھی طوفاں کی زد سے بھی سفینے بچ نکلتے ہیں
کبھی سالم سفینوں کو کنارے مار دیتے ہیں

وہ حصہ کاٹ ڈالا زہر کا خدشہ رہا جس میں
جو باقی رہ گئے مجھ میں وہ حصے مار دیتے ہیں

جو آنکھوں میں رہیں نزہتؔ وہی تو خواب ہیں اچھے
جنہیں تعبیر مل جائے وہ سپنے مار دیتے ہیں

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم