MOJ E SUKHAN

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی

Ro Leetay they Hans Letay They bus Main na Tha jab apna Jee

غزل

رو لیتے تھے ہنس لیتے تھے بس میں نہ تھا جب اپنا جی
تم نے ہمیں دیوانہ کیا ہے ایسی تو کوئی بات نہ تھی

اب یہ تمہارا کام کہ جانو ہم پروانہ تھے یا دیپ
دن بیتا تو جلتے جلتے جلتے جلتے رات کٹی

گلشن گلشن محفل محفل ایک ہی قصہ ایک ہی بات
ظالم دنیا جابر دنیا جانے یہ کب بدلے گی

لپکے کتنے ہاتھ نہ جانے ان کے سجیلے دامن پر
کل تک تھے ہم چاک گریباں ان سے پوچھے آج کوئی

ہم ہیں مشعل والے پہلے ہم سے دو دو ہاتھ کرو
پھر بکھرا لینا اندھیارا نگر نگر بستی بستی

تم ہو آگ تو ہم پانی ہیں تم ہو دھوپ تو ہم چھاؤں
اپنا تمہارا ساتھ ہی کیا ہم پرجا تم راجہ جی

گلی گلی میں خون کے دھبے ڈگر ڈگر پہ راکھ کے ڈھیر
جشن منانے والے یارو ایک نظرؔ اس جانب بھی

ظہور نظر

Zahoor Nazar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم