MOJ E SUKHAN

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ

غزل

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ
جو تھا تسکین جاں تنہائیوں میں کون تھا وہ

مری آواز جیسی اور بھی آواز تھی اک
یقیناً تھا کوئی تو پربتوں میں کون تھا وہ

جو میرے ساتھ پہنچا منزلوں تک کون ہے یہ
جسے میں چھوڑ آیا راستوں میں کون تھا وہ

بہت ملتا تھا مجھ سے وار کرنے کا طریقہ
جو اک مجھ سا تھا میرے دشمنوں میں کون تھا وہ

وہ تیرا غم تھا میرا عکس تھا یا واہمہ تھا
جو میرے روبرو تھا آئنوں میں کون تھا وہ

کٹے سر کو ہتھیلی پر سجائے گھومتا تھا
مری بستی کی خوابیدہ شبوں میں کون تھا وہ

شفیق سلیمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم