MOJ E SUKHAN

رہی اگرچہ نہ مجھ کو کبھی رلائے بغیر

غزل

رہی اگرچہ نہ مجھ کو کبھی رلائے بغیر
قرار دل کو نہیں تیری یاد آئے بغیر

کوئی یہ حسن کی دیکھے تو شان بے تابی
رہا گیا نہ مرے دل میں ان سے آئے بغیر

ہنسا ہنسا کے مجھے اور خود بھی ہنس ہنس کر
رہے نہ خاک میں میرا وہ دل ملائے بغیر

اگرچہ شرم نے کہنے دیا نہ کچھ منہ سے
رہے نہ آہ پہ میری وہ سر اٹھائے بغیر

کمال جذب محبت سے داستاں میری
تری زباں پہ ہے میری زباں پہ آئے بغیر

گداز قلب وہ نعمت ہے جو نہیں ملتی
بشر کو آنکھ سے خون جگر بہائے بغیر

جلا کے آتش غم سے اسے بنا اکسیر
کہ سنگ و خشت سے بد تر ہے دل جلائے بغیر

یہ راز وہ ہے جسے میں ہی جانتا ہوں جلیلؔ
کہ دل میں وہ اتر آئے نظر میں آئے بغیر

جلیل قدوائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم