MOJ E SUKHAN

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گے

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گے
میں بچ بھی گیا تو نئے حملہ آور مجھے مار دیں گے

بظاہر یہ اہل محبت ہیں لیکن منافق بہت ہیں
یہ اک روز دام محبت میں لا کر مجھے مار دیں گے

میں اپنی ہی آواز اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگا ہوں
اور اب خوف یہ ہے کہ میرے یہی ڈر مجھے مار دیں گے

اسی میں اماں ہے کہ میں ان کے چہرے پلٹ کر نہ دیکھوں
پلٹنے کی صورت میں یہ کینہ پرور مجھے مار دیں گے

میں ہونے کو اپنے ہی باطن میں روپوش ہو جاؤں لیکن
مرے اپنے احباب شک کی بنا پر مجھے مار دیں گے

یہ کامل یقیں ہے کہ جس دن بھی اپنے مقابل میں آیا
مری ذات میں مورچہ بند خود سر مجھے مار دیں گے

حسنؔ اب کھلے آسمانوں میں پرواز کرنا پڑے گی
وگرنہ یہ خشت ہوس سے بنے گھر مجھے مار دیں گے

حسن عباس رضا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم