MOJ E SUKHAN

زباں تو چپ ہی رہے گی بڑے وقار کے ساتھ

زباں تو چپ ہی رہے گی بڑے وقار کے ساتھ
پہ حال اشک سنائیں گے اختصار کے ساتھ

نہاں ہیں دل میں محبت فسانے تیرے تمام
یہ عمر گزری ہے لیکن ترے ہی پیار کے ساتھ

ہوئی ہے ان سے ملا قات بعد مدت کے
کھلے ہیں پھو ل نئے موسم بہا ر کے ساتھ

چھپا کے رکھے ہیں آنکھو ں میں دید کے لمحے
سجا کے رکھے ہیں سپنے اُسی خمار کے ساتھ

ا گرچہ داغ ہیں دل پر شکست کے شاہیں
کریں گے پیار اُسی شخص سے وقار کے ساتھ

شاہین بر لاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم