MOJ E SUKHAN

زخموں کی کیسے ناپیں وہ گہرائی آج کل

زخموں کی کیسے ناپیں وہ گہرائی آج کل
جو کر رہے ہیں زلزلہ پیمائ آج کل

ہر سانس جھوٹ لگتی ہے اس مایا جال میں
ہم جی رہے ہیں کیسی یہ سچائی آج کل

اب خوب دیکھتی ہوں میں اپنے تمام عیب
بڑھنے لگی ہے دیکھ لو بینائ آج کل

ہم اس وبا کے خوف سے گھر میں ہی قید ہیں
بےزار کس قدر ہوئی تنہائی آج کل

بہنوں کی قدر کرتے نہیں کیا کہوں انہیں
بس نام کے ہی رہ گئے یہ بھائی آج کل

دو وقت پیٹ بھرنے کا کیسے جتن کریں
ہے دور دسترس سے مرے پائی آج کل

قیمت تو بڑھ رہی تھی مگر راحتیں بھی تھیں
یہ کیسی مار ہے تیری مہنگائی آج کل

میری اداس آنکھ میں رہنے لگی ہے کیوں
بچھڑے کسی عزیز کی پرچھائی آج کل

سر رکھ کے تیری گود میں روؤں مزار پر
ملتا نہیں ہے کاندھا بھی اے مائی آج کل

اب حالِ دل کسی سے نہ شہناز تم کہو
ہنستے ہیں پیٹھ پیچھے تماشائی آج کل

شہناز رحمت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم