MOJ E SUKHAN

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گا

زخم اس زخم پہ تحریر کیا جائے گا
کیا دوبارہ مجھے دلگیر کیا جائے گا

اس کی آنکھوں میں کھڑا دیکھ رہا ہوں خود کو
کون سے پل مجھے تسخیر کیا جائے گا

میری آنکھوں میں کئی خواب ادھورے ہیں ابھی
کیا مکمل انہیں تعبیر کیا جائے گا

مجھ کو بیکار میں حیرت نے پکڑ رکھا ہے
شہر تو دشت میں تعمیر کیا جائے گا

تو نے دیکھا نہ کہیں مجھ کو نظر آیا ہے
ایسا منظر جسے تصویر کیا جائے گا

رمزی آثم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم