MOJ E SUKHAN

زمین فرش فلک سائبان لکھتے ہیں

زمین فرش فلک سائبان لکھتے ہیں
ہم اس جہان کو اپنا مکان لکھتے ہیں

ہمارے عہد کی تاریخ منفرد ہوگی
لہو سے اپنے جسے نوجوان لکھتے ہیں

یہ جھوٹ ہے کہ حقیقت یہ جبر ہے کہ خلوص
جو بے وفا ہیں انہیں مہربان لکھتے ہیں

جو آنے والے زمانوں سے با خبر کر دے
جبین وقت پہ وہ داستان لکھتے ہیں

سمندروں کے ستم کی کہانیاں جامیؔ
دریدہ ہوتے ہوئے بادبان لکھتے ہیں

سید معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم