MOJ E SUKHAN

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا

زمین میری رہے گی نہ آئنہ میرا
کہ آزمانے چلا ہے مجھے خدا میرا

مرے طلسم سے آزاد بھی نہیں لیکن
وہ پھول پہلی نظر میں ہوا نہ تھا میرا

نعیم بصرہ و بغداد ہارنے کے بعد
مرا وجود بھی شاید نہیں رہا میرا

وہ میرے پاس رہے یا کہیں چلا جائے
رہے گا اس کے خیالوں سے سلسلہ میرا

کسی کی کھوج میں نکلا تھا بے ارادہ میں
بدن نڈھال تھا سر گھومتا ہوا میرا

نہیں ہے اب مجھے انجام کی کوئی پروا
بڑھا دیا ہے محبت نے حوصلہ میرا

ہوا ہے قطع مسافت کا سلسلہ جاری
میں رک گیا تو بدن ٹوٹنے لگا میرا

یقیں نہیں ہے مگر نقش ہے مرے دل پر
کہ اک پری نے بنایا ہے زائچہ میرا

وہ بار بار پلٹتا ہے دور جا جا کر
سو ٹوٹ ٹوٹ کے جڑتا ہے رابطہ میرا

نظر کی حد پہ جو اک نجم خواب ہے ساجدؔ
وہی چراغ ہے اس کا وہی دیا میرا

غلام حسین ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم