MOJ E SUKHAN

زمیں زادوں سے لڑنا ہی پڑے گا

زمیں زادوں سے لڑنا ہی پڑے گا
قبیلہ تب مرا زندہ رہے گا

چٹانیں پھاڑ کر نکلے شجر جو
وہ طوفانوں سے پھر کیسے ڈرے گا

بناؤں کربلا گر کینوس پر
لہو رنگوں سے پھر بہنے لگے گا

ہوا نے جو سنا نیزے پہ قرآں
سنے پتھر تو وہ رونے لگے گا

دیا کب آس کا بجھتا ہے لوگو
یہ جلتا ہے بجھے گا پھر جلے گا

یہ سورج کب اندھیروں سے ڈرا ہے
اجالا یوں ہی یہ کرتا رہے گا

کوئی بیٹی ہو رخصت جب کسی کی
تو گھر میں ایک سناٹا رہے گا

نہیں ہوگا زمانے میں تو امبر
فسانوں میں مگر زندہ رہے گا

عبدالمجید راجپوت امبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم