MOJ E SUKHAN

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
جاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی

دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتا
کیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی

اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانب افلاک
ہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی

ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں تم نے
نمناک نگاہوں میں حیا سہمی ہوئی سی

تقصیر کوئی ہو تو سزا عمر کا رونا
مٹ جائیں وفا میں تو جزا سہمی ہوئی سی

ہاں ہم نے بھی پایا ہے صلہ اپنے ہنر کا
لفظوں کے لفافوں میں بقا سہمی ہوئی سی

ہر لقمے پہ کھٹکا ہے کہیں یہ بھی نہ چھن جائے
معدے میں اترتی ہے غذا سہمی ہوئی سی

اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

ہے عرشؔ وہاں آج محیط ایک خموشی
جس راہ سے گزری تھی قضا سہمی ہوئی سی

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم