MOJ E SUKHAN

زندگانی کو عدم آباد لے جانے لگا

زندگانی کو عدم آباد لے جانے لگا
ہر گزرتا دن کسی کی یاد لے جانے لگا

ایک محفل سے اٹھایا ہے دل ناشاد نے
ایک محفل میں دل ناشاد لے جانے لگا

کس طرف سے آ رہا ہے کارواں اسباب کا
کس طرف یہ خانماں برباد لے جانے لگا

اک ستارہ مل گیا تھا رات کی تمثیل میں
آسمانوں تک مری فریاد لے جانے لگا

میں ہی اپنی قید میں تھا اور میں ہی ایک دن
کر کے اپنے آپ کو آزاد لے جانے لگا

فاضل جمیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم