MOJ E SUKHAN

زندگی ایک امتحان بنے

Zindagi Aik imtahan banay

غزل

زندگی ایک امتحان بنے
جب کسی کا یقیں گمان بنے

خوف رسوائ کیا انہیں کوئ
جو اندھیروں کے پاسبان بنے

تیر پیوست میں نے رہنے دیا
کیوں نکالوں کہ پھر نشان بنے

کر تصور میں اک جہاں آباد
تاکہ صحرا میں سائبان بنے

خود سے ملنا ہے سعدیہ مجھ کو
رابطہ کوئی درمیان بنے

سعدیہ سراج

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم