Zindagi Aik imtahan banay
غزل
زندگی ایک امتحان بنے
جب کسی کا یقیں گمان بنے
خوف رسوائ کیا انہیں کوئ
جو اندھیروں کے پاسبان بنے
تیر پیوست میں نے رہنے دیا
کیوں نکالوں کہ پھر نشان بنے
کر تصور میں اک جہاں آباد
تاکہ صحرا میں سائبان بنے
خود سے ملنا ہے سعدیہ مجھ کو
رابطہ کوئی درمیان بنے
سعدیہ سراج