MOJ E SUKHAN

زندگی با خدا سوال ہے بس

زندگی با خدا سوال ہے بس
ایک ہی جا بجا سوال ہے بس

ایک جانب محل ہیں شاہوں کے
اور مقابل مرا سوال ہے بس

باپ کے بعد بیٹا یا داماد
کون وارث بنا سوال ہے بس

دیس خوش حال ہے تو پھر اک شخص
بھوک سے کیوں مرا سوال ہے بس

ایک تن پر ہے ریشم و اطلس
ایک پر چیٹھڑا سوال ہے بس

چھینتے کون لوگ ہیں یارو
بیٹیوں سے ردا سوال ہے بس

منصفوں سے عجیب یہ امبر
روز و شب پوچھتا سوال ہے بس

عبد المجید راجپوت امبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم