MOJ E SUKHAN

زندگی جبر ہے آزار ہے رسوائی ہے

zindagi Jabr Hay Aazar Hay ruswaai Hay

غزل

زندگی جبر ہے آزار ہے رسوائی ہے
زندگی ہجر ہے جاں لیوا سی تنہائی ہے

پات کیا چیز ہے اے میرے جہاں کے مالک
پھول جو بھی ہے ترے باغ میں ہرجائی ہے

کتنے سادہ ہو میاں تم جو وفا ڈھونڈتے ہو
کوئی دیکھا ہے یہاں جس نے وفا پائی ہے

یوں تو چہرے تھے بہت سادہ و معصوم مگر
ہر کسی دل میں کدورت ہی نظر آئی ہے

حال دل کس سے کہیں شام یہاں پر سچ ہے
جس کو دیکھا جسے پرکھا وہ تماشائی ہے

شمیم خان شام

Shameem Khan Shaam

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم