MOJ E SUKHAN

زندگی خود ہی حلیف رہ غم ہوتی ہے

زندگی خود ہی حلیف رہ غم ہوتی ہے
بوجھ بڑھتا ہے تو رفتار بھی کم ہوتی ہے

اوس کی بوند سے خوابوں کو لکھا کرتے ہیں
دھوپ کی شکل میں تعبیر رقم ہوتی ہے

انکسار آشنا ہوتا ہے انا کا پیکر
پیڑ خم ہو کہ نہ ہو شاخ تو خم ہوتی ہے

اک کسک چٹکیاں لیتی ہے ازل سے دل میں
اک خلش ہے کہ جو بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے

پھول شبنم کی رفاقت ہی سے پاتا ہے جلا
آنکھ نم ہو کے ہی شائستہ غم ہوتی ہے

عمر بھر خاک اڑاتی ہے سروں پر سب کے
یوں تو کہنے کو زمیں زیر قدم ہوتی ہے

رفیع الدین راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم