زندگی خود ہی حلیف رہ غم ہوتی ہے
بوجھ بڑھتا ہے تو رفتار بھی کم ہوتی ہے
اوس کی بوند سے خوابوں کو لکھا کرتے ہیں
دھوپ کی شکل میں تعبیر رقم ہوتی ہے
انکسار آشنا ہوتا ہے انا کا پیکر
پیڑ خم ہو کہ نہ ہو شاخ تو خم ہوتی ہے
اک کسک چٹکیاں لیتی ہے ازل سے دل میں
اک خلش ہے کہ جو بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے
پھول شبنم کی رفاقت ہی سے پاتا ہے جلا
آنکھ نم ہو کے ہی شائستہ غم ہوتی ہے
عمر بھر خاک اڑاتی ہے سروں پر سب کے
یوں تو کہنے کو زمیں زیر قدم ہوتی ہے
رفیع الدین راز