MOJ E SUKHAN

زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم

زندگی میں جب ڈھلے گی شام غم
زیست کہہ دے گی سفر تیار ہے

تم بھی کس موسم میں آئے ہو یہاں
شہر میں اب خوف کی یلغار ہے

آئینے میں دیکھ کر یاد آئے گا
سانحے کا کون ذمے دار ہے

جیتنے کی آرزو بھی کس لیے
ایک غم تو اک خوشی تیار ہے

. چلتے چلتے یہ نگاہیں جھک گئیں
راستے میں روشنی دیوار ہے

ریحانہ احسان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم