MOJ E SUKHAN

زندگی کی ہر نفس میں بے کلی تیرے بغیر

زندگی کی ہر نفس میں بے کلی تیرے بغیر
ہر خوشی لگتی ہے دل کو اجنبی تیرے بغیر

فصل گل نے لاکھ پیدا کی فضائے پر بہار
غنچۂ دل پر نہ آئی تازگی تیرے بغیر

تشنہ کامی کو مری سیراب کرنے کے لئے
اٹھتے اٹھتے وہ نظر بھی رہ گئی تیرے بغیر

کوئی جلوہ کوئی منظر مجھ کو بھاتا ہی نہیں
چاند کی صورت بھی ہے بے نور سی تیرے بغیر

رہ گیا آخر سکوں نا آشنا ہو کر مبینؔ
آہٹیں ہونے لگیں ہیں درد کی تیرے بغیر

سید مبین علوی خیر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم