MOJ E SUKHAN

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہے

زندگی ہماری بھی کیا اداؤں والی ہے
تھوڑی دھوپ جیسی ہے ، تھوڑی چھاؤں والی ہے

پھر لہو میں ڈوبا ہے ، آدمی کا مستقبل
یہ صدی جو آئی ہے ، کربلاؤں والی ہے

سب سے جھک کے ملتا ہے ، سب سے پیار کرتا ہے
یہ جو ہے ادا اس میں ، یہ تو گاؤں والی ہے

اس کے ذرے ذرے میں ، حسن ہے محبت ہے
یہ ہماری دھرتی تو اپسراؤں والی ہے

کس کی یاد آئی ہے ، کون یاد آیا ہے
پھر ہماری آنکھوں میں رُت گھٹاؤں والی ہے

موت کی طرف منظؔر بھاگتی ہے تیزی سے
عمر کتنے صحت مند ہاتھ پاؤں والی ہے

منظر بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم