MOJ E SUKHAN

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے
زور دریا کا فقط بہنے میں ہے

رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگ
عافیت اب گھومتے رہنے میں ہے

کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کر
جیسے وہ ظالم مرے کہنے میں ہے

چھو لیا تھا درد کی زنجیر کو
وہ بھی اب شامل مرے کہنے میں ہے

عرشؔ وہ اپنی خدائی میں کہاں
بات جو اس کو خدا کہنے میں ہے

عرش صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم