MOJ E SUKHAN

زندگی

زندگانی کہانی کا عنوان ہے
ایک ہی جسم ہے اہک ہی جان ہے

کچھ دنوں سے عجب اک ہوا ہے چلی
کھو رہی ہے بھروسہ ہی اب زندگی

آج لے آئی ہے ایسے اک موڑ پر
جارہے ہیں مرا ساتھ سب چھوڑ کر

چھوڑ آٸے ابھی جس کو ہنستا ہوا
اور دیکھا ابھی جگ سے رخصت ہوا

ہر قدم پر ہے لوگو عجب امتحاں
قہر برسا رہے ہیں زمیں آسماں

تیز بارش ہے آندھی ہے طوفان ہے
آج مشکل میں ہر ایک کی جان ہے

ہیں پرندے بھی شاخوں پہ سہمے ہوئے
اور انساں گھروں میں ہیں دبکے ہوٸے

کیا کہیں آج کل بس ہے صورت یہی
اور فی الحال ہے بس یہی زندگی

پھر سجیں گی وہی بزمِ شعرو سخن
رونقیں ہوں گی پھر انجمن انجمن

بالیقیں شب یہ طولانی کٹ جاٸے گی
آرزو اک نٸ صبح پھر آٸے گی

رئیسہ خمار آرزو

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم