زندہ رہنے کا بہانہ چھین لے
آنکھ سے سپنا سہانہ چھین لے
چھین لے آنکھوں سے میری نیند کو
میرے خوابوں کا ٹھکانہ چھین لے
شوخیاں بے فکریاں رعنائیاں
زندگی کا تانا بانا چھین لے
کاتب تقدیر کی مرضی جو ہو
تیر سے اس کا نشانہ چھین لے
بس چلے صیاد کا ہالہ اگر
پنچھیوں سے آب و دانہ چھین لے
ہالہ