MOJ E SUKHAN

زندہ رہنے کا بہانہ چھین لے

زندہ رہنے کا بہانہ چھین لے
آنکھ سے سپنا سہانہ چھین لے

چھین لے آنکھوں سے میری نیند کو
میرے خوابوں کا ٹھکانہ چھین لے

شوخیاں بے فکریاں رعنائیاں
زندگی کا تانا بانا چھین لے

کاتب تقدیر کی مرضی جو ہو
تیر سے اس کا نشانہ چھین لے

بس چلے صیاد کا ہالہ اگر
پنچھیوں سے آب و دانہ چھین لے

ہالہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم