MOJ E SUKHAN

زور مٹی کی جسارت میں روانی بھر تھا

غزل

زور مٹی کی جسارت میں روانی بھر تھا
عمر کا قصہ فقط ایک کہانی بھر تھا

یاد کرتے ہیں مگر درد سے عاری رہ کر
عشق جیسے کہ ہمیں صرف نشانی بھر تھا

شعریات اب کے زمانے کے مطابق تھے نئے
شعر پہلے سا وہی لفظ و معانی بھر تھا

ہم نے ہجرت کے عذابوں کو سہا اور اک دن
ہم پہ ہجرت کا اثر نقل مکانی بھر تھا

اشک آنکھوں کے لئے نم کی ضرورت بھر تھے
زخم جینے کے لئے یاد دہانی بھر تھا

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم