MOJ E SUKHAN

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ

غزل

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ
ہمدمو مر کے بھی جیے جاؤ

امتحان وفا ہمیں منظور
انتہائے ستم کیے جاؤ

کھل نہ جائے فریب چارہ گری
زخم ہر حال میں سیے جاؤ

راکھ کا ڈھیر ہیں مہ و انجم
راکھ میں جستجو کیے جاؤ

رہروی کا یہی تقاضا ہے
راہزن کو دعا دیے جاؤ

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم