MOJ E SUKHAN

زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتا

زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتا
دل مشورۂ ناصیہ سائی نہیں دیتا

کس دھند کی چادر میں ہے لپٹی کوئی آواز
دستک کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں دیتا

ہے تا حد امکاں کوئی بستی نہ بیاباں
آنکھوں میں کوئی خواب دکھائی نہیں دیتا

عالم بھی قفس رنگ ہے ایسا کہ نظر کو
اس دام تحیر سے رہائی نہیں دیتا

یادوں کو سلا دیتا ہے سائے میں شجر کے
وہ حوصلۂ درد رسائی نہیں دیتا

دل اس کا ہتھیلی پہ ہے میرے لیے لیکن
ہاتھوں میں مرے دست حنائی نہیں دیتا

آرائش جاں کے لیے کافی نہیں وحشت
مجھ کو تو کوئی زخم دکھائی نہیں دیتا

اس عشق میں کچھ شائبہ حرص بھی ہوگا
میں قوت باطن کی صفائی نہیں دیتا

روشن ہے شب ہجر بہ انداز تعلق
وہ مہر نظر داغ جدائی نہیں دیتا

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم