MOJ E SUKHAN

زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر

غزل

زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کر
آہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کر

کر دیا تعین سے ذوق عجز کو آزاد
نقش سجدہ نے میرے تیرا نقش پا ہو کر

فرط غم سے بے حس ہوں غم ہے غم نہ ہونے کا
درد کر دیا پیدا درد نے دوا ہو کر

ہو چکے ہیں سل بازو ہے نہ ہمت پرواز
ہم رہا نہ ہو پائے قید سے رہا ہو کر

حسرتیں نکلتی ہیں میری جان جاتی ہے
دم لبوں پہ آتا ہے حرف مدعا ہو کر

غم پہ غم مجھے دے کر غم سے کر دیا محروم
کیا ملا زمانے کو صبر آزما ہو کر

رنج عیش ہے باقی اب نہ عیش غم تابشؔ
کچھ خبر نہیں مجھ کو رہ گیا ہوں کیا ہو کر

تابش دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم