MOJ E SUKHAN

زیست رعنائیوں سے بھر دی ہے

زیست رعنائیوں سے بھر دی ہے
راہ کیوں پھر یہ پرخطر دی ہے

شکر تیرا ادا میں کرتی ہوں
مجھ کو نعمت تمام تر دی ہے

درد سے بھر دیا ہے اس دل کو
کس لیے آہ بےاثر دی ہے

میں نہیں ہوں نہیں ہوں ماہرِ فن
تونے دنیا ہی بےہنر دی ہے

فیصلے اپنے لے نہیں پاتی
پھر طبیعت ہی کیوں نڈر دی ہے

یہ سحر ہے طلسم ہے یا نشہ
بےخودی کیسی جادوگر دی ہے

دیکھ ابلاغ کی ترقی کو
ایک جملے میں سب خبر دی ہے

میرے اپنے رہیں سلامت سب
یہ دعا میں نے عمر بھر دی ہے

میں کیا اندھی ہوں گونگی بہری ہوں
مجھ کو رب نے زباں نظر دی ہے

دل کے رشتے بھی جم گئے اب تو
روحِ انسانیت پہ سردی ہے

کیوں ہے شہناز گم اندھیروں میں
کس نے تاریک یہ ڈگر دی ہے

شہناز رحمت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم